سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 242
سیرت المہدی 242 حصہ اوّل میں ہر جہت سے ایسے سامان مہیا ہوں جو اُن کیلئے راحت سکون اور اطمینان کا موجب ہوں تا کہ ان کے بیرونی کام کا بوجھ ہلکا کرنے میں یہ خانگی راحت وسکون کسی قدر سہارے کا کام دے سکے۔269 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ جب میں نے ایک واقعی ضرورت پر نکاح ثانی کا قصد کیا۔تو حضرت صاحب نے مجھ سے فرمایا کہ جب کہیں موقعہ ملے جلد اس قلعہ میں داخل ہو جانا چاہیے اور زید و بکر کی پروانہ کرنی چاہیے۔270 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ حضرت صاحب ہر چیز میں خوبصورتی کو پسند فرماتے تھے اور فرماتے تھے اللهُ جَمِيلٌ وَيُحِبُّ الْجَمَال - 271 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ جب حضرت مسیح موعودؓ نے یہ اشتہار دیا کہ کوئی غیر مذہب کا پیرویا مخالف اگر نشان دیکھنا چاہتا ہے تو میرے پاس آکر رہے۔پھر اگر نشان نہ دیکھے تو میں اسے اتنا انعام دونگا۔تو ایک دن حضرت صاحب مجھے فرمانے لگے کہ ہم نے اشتہار دے دیگر بہت بلایا ہے مگر کوئی نہیں آتا۔آجکل بٹالہ میں پادری وائٹ بریخٹ ہیں۔آپ اُن کے پاس جائیں اور ایک متلاشی حق کے طور پر اپنے آپ کو ظاہر کریں اور کہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے ایسا ایسا اشتہار دیا ہے، آپ ضرور چل کر اُن کا مقابلہ کریں۔آپ کیلئے کوئی مشکل بھی نہیں ہے۔قادیان یہاں سے صرف چند میل کے فاصلہ پر ہے۔اگر مرزا صاحب اس مقابلہ میں ہار گئے۔تو میں بلا عذر حق کو قبول کر لوں گا اور اور بھی بہت سے لوگ حق کو قبول کر لیں گے اور حضرت صاحب نے یہ بھی کہا کہ یہ بھی اُسے کہنا کہ جھوٹے کو اُس کے گھر تک پہنچانا چاہیے۔یہ ایک بڑا نادر موقعہ ہے۔مرزا صاحب نے بڑا شور مچارکھا ہے۔آپ اگر ان کو شکست دیدیں گے اور ان سے انعام حاصل کر لیں گے تو یہ ایک عیسائیت کی نمایاں فتح ہوگی اور پھر کوئی مسلمان سامنے نہیں بول سکے گا وغیرہ وغیرہ۔میاں عبداللہ صاحب کہتے ہیں جس وقت حضرت صاحب نے یہ مجھ سے فرمایا اس وقت شام کا وقت تھا اور بارش ہو رہی تھی اور سردیوں کے دن تھے۔اس لئے میاں حامد علی نے مجھے روکا کہ صبح چلے جانا مگر میں نے کہا کہ جب حضرت صاحب نے فرمایا ہے تو خواہ