سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 233
سیرت المہدی 233 حصہ اوّل 255 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مولوی شیر علی صاحب نے کہ جس رات امة النصير پیدا ہوئی ہے حضرت صاحب خود مولوی محمد احسن صاحب کے کمرے کے دروازے پر آئے اور دستک دی۔مولوی محمد احسن صاحب نے پوچھا کون ہے؟ حضرت صاحب نے فرمایا ”غلام احمد“۔مولوی صاحب نے جھٹ اٹھ کر دروازہ کھولا تو حضرت نے جواب دیا کہ میرے ہاں لڑکی پیدا ہوئی ہے اور اس کے متعلق مجھے الہام ہوا ہے کہ غاسق الله - خاکسار عرض کرتا ہے کہ غاسق اللہ سے مراد یہ ہے کہ جلد فوت ہو جانیوالا۔چنانچہ وہ لڑکی جلد فوت ہو گئی۔256 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ ایک شخص گوجرانولہ کا باشندہ محمد بخش تھا نہ دار ہوتا تھا جو سلسلہ کا پرلے درجہ کا معاند تھا اور ہر وقت عداوت پر کمر بستہ رہتا تھا۔یہ شخص ۱۸۹۳ء سے بٹالہ کے تھانہ میں متعین ہوا اور پھر کئی سال تک اسی جگہ رہا۔چونکہ قادیان بٹالہ کے تھانہ میں ہے اس لئے اسے شرارت کا بہت اچھا موقعہ میسر آ گیا۔چنانچہ اس نے اپنے زمانہ میں کوئی دقیقہ ایذارسانی اور مخالفت کا اُٹھا نہیں رکھا۔حفظ امن کا مقدمہ جو ۱۸۹۹ء میں فیصلہ ہوا اسی کی رپورٹ پر ہوا تھا۔آخر یہ شخص طاعون سے ہلاک ہوا اور خدا کی قدرت ہے کہ اب اس کا لڑکا بڑا مخلص احمدی ہے۔ان کا نام میاں نیاز محمد صاحب ہے جو علاقہ سندھ میں تھانہ دار ہیں۔(خاکسار بوقت ایڈیشن ثانی کتاب ھذا عرض کرتا ہے کہ مجھ سے ڈاکٹر غلام احمد صاحب آئی۔ایم۔ایس نے جو میاں نیاز محمد صاحب کے صاحبزادے ہیں۔بیان کیا ہے کہ ان کے دادا دراصل ابتداء میں ایسے مخالف نہ تھے مگر بٹالہ آ کر بعض لوگوں کے بہکانے میں آکر زیادہ مخالف ہو گئے۔لیکن پھر آخری بیماری میں اپنی مخالفت پر کچھ نادم نظر آتے تھے۔نیز ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ ان کے دادا کی وفات طاعون سے نہیں ہوئی تھی۔بلکہ ہاتھ کے کار بنکل سے ہوئی تھی خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود نے حقیقۃ الوحی میں طاعون سے مرنا بیان کیا ہے۔سواگر ڈاکٹر صاحب کی اطلاع درست ہے تو چونکہ ان دنوں میں طاعون کا زور تھا اس لئے ممکن ہے کہ کسی نے ہاتھ کے پھوڑے کی وجہ سے اس بیماری کو طاعون سے تعبیر کر کے حضرت مسیح