سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 232 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 232

سیرت المہدی 232 حصہ اوّل ہوا ہے اور ہمارے استاد نے بیان کیا کہ ہم میں سے کسی کو اس کی تعبیر نہیں آئی۔میں نے کہا کہ اس کی تعبیر یہ ہے کہ وہ شخص عیسائی ہو جائے گا۔کیونکہ انبیاء کا وجود آئینہ کی طرح ہوتا ہے پس اس نے جو آپ کو دیکھا تو گویا اپنی حالت کے عکس کو دیکھا۔مولوی صاحب کہتے تھے کہ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ میرا یہ جواب سن کر میرے استاد بہت خوش ہوئے اور متعجب بھی اور کہنے لگے کہ وہ شخص واقعی بعد میں عیسائی ہو گیا تھا اور کہنے لگے کہ کاش ہم اس کی تعبیر جانتے اور اسے وقت پر سمجھاتے تو شاید وہ بچ جاتا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ معلوم نہیں ہوا کہ استاد سے کون استاد مراد ہیں۔مولوی فضل الہی صاحب سے تعلیم پانے کے وقت آپکی عمر بہت چھوٹی تھی اس لئے اغلب ہے کہ مولوی فضل احمد صاحب اور مولوی گل علی شاہ صاحب میں سے کوئی صاحب ہونگے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ شیخ یعقوب علی صاحب لکھتے ہیں کہ مولوی فضل الہی صاحب قادیان کے رہنے والے تھے اور مذہباً حنفی تھے۔مولوی فضل احمد صاحب فیروز والا ضلع گوجرانوالہ کے باشندہ تھے اور مذہباً اہل حدیث تھے۔یہ صاحب مولوی مبارک علی صاحب سیالکوٹی کے والد تھے جنھوں نے ( مولوی مبارک علی صاحب نے) حضرت صاحب کے ہاتھ پر بیعت کی مگر جو بعد وفات حضرت خلیفہ اول فتنہ کی رو میں بہہ گئے۔تیسرے استاد مولوی سید گل علی شاہ صاحب تھے جو بٹالہ کے رہنے والے تھے اور مذہباً شیعہ تھے۔254 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مولوی شیر علی صاحب نے کہ میرا ایک کلاس فیلو تھا جس کا نام محمد عظیم ہے اور جو پیر جماعت علی شاہ سیالکوٹی کا مرید ہے وہ مجھ سے بیان کرتا تھا کہ میرا بھائی کہا کرتا تھا کہ ایام جوانی میں جب مرزا صاحب کبھی کبھی امر تسر آتے تھے تو میں ان کو دیکھتا تھا کہ وہ پادریوں کے خلاف بڑا جوش رکھتے تھے۔اس زمانہ میں عیسائی پادری بازاروں وغیرہ میں عیسائیت کا وعظ کیا کرتے تھے اور اسلام کے خلاف زہرا گلتے تھے۔مرزا صاحب ان کو دیکھ کر جوش سے بھر جاتے تھے اور ان کا مقابلہ کرتے تھے۔مولوی صاحب بیان کرتے ہیں کہ محمد عظیم اب بھی زندہ ہے اور غالباً وہ مولوی عبد القادر صاحب احمدی مرحوم لدھیانوی کے تعلق داروں میں سے ہے۔