سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 234 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 234

سیرت المہدی 234 حصہ اوّل موعود علیہ السلام سے بیان کر دیا ہو۔واللہ اعلم) 257 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب کی عادت تھی کہ اپنی جماعت کے افراد کی مذہبی حالت کا مطالعہ کرتے رہتے تھے مگر جب آپ کسی میں کوئی اعتقادی یا عملی یا اخلاقی نقص دیکھتے تھے تو عموماً اسے مخاطب فرما کر کچھ نہ کہتے تھے بلکہ موقعہ پا کر کسی پبلک تقریر یا گفتگو میں ایسی طرز کو اختیار فرماتے تھے جس سے اسکی اصلاح مقصود ہوتی تھی اور پھر اسے مناسب طریق پر کئی موقعوں پر بار بار بیان فرماتے تھے۔اور جماعت کی اصلاح اندرونی کے متعلق آپ کو از حد فکر رہتا تھا اور اس کے لئے آپ مختلف طریق اختیار فرماتے رہتے تھے اور زیادہ زور دعاؤں پر دیتے تھے اور بعض اوقات فرماتے تھے کہ جو باپ اپنے بچے کو ہر حرکت و سکون پر ٹو کتا رہتا ہے اور ہر وقت پیچھے پڑ کر سمجھا تا رہتا ہے اور اس معاملہ میں حد سے بڑھ کر احتیاط کرتا ہے وہ بھی ایک گونہ شرک کرتا ہے کیونکہ وہ گویا اپنے بچہ کا خدا بنتا ہے اور ہدایت اور گمراہی کو اپنی نگرانی کے ساتھ وابستہ کرتا ہے حالانکہ دراصل ہدایت تو خدا کے ہاتھ میں ہے۔اسے چاہئیے کہ عام طور پر اپنے بچے کی حفاظت کرے اور زیادہ زور دعا پر دے۔اور خدا سے اسکی ہدایت مانگے۔نیز حضرت صاحب کا یہ دستور تھا کہ ہدایت کے معاملہ میں زیادہ فکر جڑ کی کرتے تھے اور شاخوں کا ایسا خیال نہ فرماتے تھے کیونکہ حضور فرماتے تھے کہ اگر جڑ درست ہو جاوے تو شاخیں خود بخود درست ہو جاتی ہیں۔چنانچہ فرماتے تھے کہ اصل چیز تو دل کا ایمان ہے جب وہ قائم ہو جاتا ہے تو اعمال خود بخود ٹھیک ہو جاتے ہیں۔کسی نے عرض کیا کہ حضور کے پاس بعض لوگ ایسے آتے جاتے ہیں جنکی داڑھیاں منڈھی ہوتی ہیں فرمایا تمہیں پہلے ڈاڑھی کی فکر ہے مجھے ایمان کی فکر ہے۔نیز فرماتے تھے کہ جو شخص بچے دل سے ایمان لاتا ہے اور مجھ کو واقعی خدا کا بھیجا ہوا سمجھتا ہے وہ جب دیکھے گا کہ میں داڑھی رکھتا ہوں تو اس کا ایمان اس سے خود داڑھی رکھوائے گا۔اخلاق پر حضور بہت زور دیتے تھے اور اخلاق میں سے خصوصاً محبت ، تواضع حلم و رفق، صبر اور ہمدردی خلق اللہ پر آپ کا بہت زور ہوتا تھا اور تکبر ، سنگ دلی سخت گیری اور درشتی کو بہت بُرا سمجھتے تھے۔تیمم و تعیش سے سخت نفرت تھی اور سادگی اور محنت کشی کو پسند فرماتے تھے۔