سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 231 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 231

سیرت المہدی 231 حصہ اوّل نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ ڈگلس کے ساتھ اپنی اس ملاقات کا حال مولوی مبارک علی صاحب نے لنڈن سے لکھ کر بھیجا ہے اور بوقت ملاقات گفتگو انگریزی زبان میں ہوئی تھی۔جسے یہاں ترجمہ کر کے اردو میں لکھا گیا ہے۔251 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ ایک دفعہ میں بچپن میں گاؤں سے باہر ایک کنوئیں پر بیٹھا ہوالا سا بنارہا تھا کہ اس وقت مجھے کسی چیز کی ضرورت ہوئی جو گھر سے لانی تھی میرے پاس ایک شخص بکریاں چرا رہا تھا میں نے اسے کہا کہ مجھے یہ چیز لا دو۔اس نے کہا۔میاں میری بکریاں کون دیکھے گا۔میں نے کہا تم جاؤ میں ان کی حفاظت کروں گا اور چراؤں گا چنانچہ اس کے بعد میں نے اسکی بکریوں کی نگرانی کی اور اس طرح خدا نے نبیوں کی سنت ہم سے پوری کرا دی۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ لا سا ایک لیس دار چیز ہوتی ہے جو بعض درختوں کے دودھ وغیرہ سے تیار کرتے ہیں۔اور جانور وغیرہ پکڑنے کے کام آتا ہے۔نیز والدہ صاحبہ فرماتی تھیں کہ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ ہم بچپن میں چڑیاں پکڑا کرتے تھے اور چاقو نہ ہوتا تھا تو تیز سرکنڈے سے ہی حلال کر لیتے تھے۔252 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ ہم بچپن میں والدہ کے ساتھ ہوشیار پور جاتے تھے تو ہوشیار پور کے چوہوں میں پھرا کرتے تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ ضلع ہوشیار پور میں کئی برساتی نالے ہیں جن میں بارش کے وقت پانی بہتا ہے اور ویسے وہ خشک رہتے ہیں۔یہ نالے گہرے نہیں ہوتے قریباً اردگرد کے کھیتوں کے ساتھ ہموار ہی ہوتے ہیں۔ہوشیار پور کا سارا ضلع ان برساتی نالوں سے چھدا پڑا ہے۔ان نالوں کو پنجابی میں چوہ کہتے ہیں۔253 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مولوی شیر علی صاحب نے کہ حضرت صاحب بیان فرماتے تھے کہ جب ہم استاد سے پڑھا کرتے تھے تو ایک دفعہ ہمارے استاد نے بیان کیا کہ ایک شخص نے خواب دیکھا تھا کہ ایک مکان ہے جو دھواں دار ہے یعنی اس کے اندر باہر سب دھواں ہو رہا ہے۔اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کے اندر آنحضرت ﷺے ہیں اور چاروں طرف سے عیسائیوں نے اس کا محاصرہ کیا