سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 221
سیرت المہدی 221 حصہ اوّل ہیں کہ میں ان دنوں سخت بے دین اور شرابی کبابی راشی مرتشی ہوتا تھا۔چنانچہ میں نے جب مسجد میں جا کر ملاں سے پوچھا کہ ذکریا والی تو بہ کیسی ہوتی ہے؟ تو لوگوں نے تعجب کیا کہ یہ شیطان مسجد میں کس طرح آگیا ہے۔مگر وہ ملاں مجھے جواب نہ دے سکا۔پھر میں نے دھرم کوٹ کے مولوی فتح دین صاحب مرحوم احمدی سے پوچھا انہوں نے کہا کہ زکریا والی تو بہ بس یہی ہے کہ بے دینی چھوڑ دو۔حلال کھاؤ۔نماز روزہ کے پابند ہو جاؤ اور مسجد میں زیادہ آیا جایا کرو۔یہ سُن کر میں نے ایسا کرنا شروع کر دیا۔شراب وغیرہ چھوڑ دی اور رشوت بھی بالکل ترک کر دی اور صلوۃ و صوم کا پابند ہو گیا۔چار پانچ ماہ کا عرصہ گذرا ہوگا کہ میں ایک دن گھر گیا تو اپنی بڑی بیوی کو روتے ہوئے پایا۔سبب پوچھا تو اس نے کہا پہلے مجھ پر یہ مصیبت تھی کہ میرے اولاد نہیں ہوتی تھی آپ نے میرے اوپر دو بیویاں کیں۔اب یہ مصیبت آئی ہے کہ میرے حیض آنا بند ہو گیا ہے گویا اولاد کی کوئی امید ہی نہیں رہی ) ان دنوں میں اس کا بھائی امرتسر میں تھا نہ دار تھا چنانچہ اس نے مجھے کہا کہ مجھے میرے بھائی کے پاس بھیج دو کہ میں کچھ علاج کرواؤں۔میں نے کہا وہاں کیا جاؤ گی یہیں دائی کو بلا کر دکھلا ؤ اور اس کا علاج کرواؤ۔چنانچہ اس نے دائی کو بلوایا اور کہا کہ مجھے کچھ دوا وغیرہ دو۔دائی نے سرسری دیکھ کر کہا میں تو دوا نہیں دیتی نہ ہاتھ لگاتی ہوں۔کیوں کہ مجھے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خدا تیرے اندر بھول گیا ہے یعنی تو تو بانجھ تھی مگر اب تیرے پیٹ میں بچہ معلوم ہوتا ہے۔پس خدا نے تجھے (نعوذ باللہ) بھول کر حمل کروا دیا ہے۔مؤلف ) اور اس نے گھر سے باہر آ کر بھی یہی کہنا شروع کیا کہ خدا بھول گیا ہے مگر میں نے اسے کہا کہ ایسانہ کہو بلکہ میں نے مرزا صاحب سے دعا کروائی تھی۔پھر منشی صاحب بیان کرتے ہیں کہ کچھ عرصہ میں حمل کے پورے آثار ظاہر ہو گئے اور میں نے اردگر دسب کو کہنا شروع کیا کہ اب دیکھ لینا کہ میرے لڑکا پیدا ہوگا اور ہوگا بھی خوبصورت مگر لوگ بڑا تعجب کرتے تھے اور کہتے تھے کہ اگر ایسا ہو گیا تو واقعی بڑی کرامت ہے۔آخر ایک دن رات کے وقت لڑکا پیدا ہوا اور خوبصورت ہوا۔میں اسی وقت دھرم کوٹ بھا گا گیا۔جہاں میرے کئی رشتہ دار تھے اور لوگوں کو اس کی پیدائش سے اطلاع دی چنا نچہ کئی لوگ اسی وقت بیعت کے لئے قادیان روانہ ہو گئے مگر بعض نہیں گئے اور پھر اس واقعہ پر ونجواں کے بھی بہت سے لوگوں نے بیعت کی اور میں نے بھی بیعت کر لی۔اور لڑکے کا نام عبدالحق رکھا۔منشی صاحب بیان کرتے ہیں