سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 222
سیرت المہدی 222 حصہ اوّل کہ میری شادی کو بارہ سال سے زائد ہو گئے تھے۔اور کوئی اولاد نہیں ہوئی تھی۔نیز منشی صاحب نے بیان کیا کہ میں پھر جب قادیان آیا تو ان دنوں میں مسجد کا راستہ دیوار کھینچنے سے بند ہوا تھا۔میں نے باغ میں حضرت صاحب کو اپنی ایک خواب سنائی کہ میں نے دیکھا ہے کہ میرے ہاتھ میں ایک خربوزہ ہے جسے میں نے کاٹ کر کھایا ہے اور وہ بڑا شیریں ہے لیکن جب میں نے اس کی ایک پھاڑی عبدالحق کو دی تو وہ خشک ہو گئی۔حضرت صاحب نے تعبیر بیان فرمائی کہ عبدالحق کی ماں سے آپ کے ہاں ایک اور لڑکا ہو گا مگر وہ فوت ہو جائے گا۔چنانچہ منشی صاحب کہتے ہیں کہ ایک اور لڑکا ہوا مگر وہ فوت ہو گیا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ میں نے عبدالحق کو دیکھا ہے خوش شکل اور شریف مزاج لڑکا ہے اس وقت ۱۹۲۲ء میں اس کی عمر کوئی بیس سال کی ہوگی۔242 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کو اپنے دشمنوں کی طرف سے چھ مقدمات پیش آئے ہیں۔چار فوج داری۔ایک دیوانی اور ایک مالی اور ان سب میں اللہ تعالیٰ نے اپنی بشارتوں کے مطابق حضرت مسیح موعود کو دشمنوں پر فتح دی ہے۔اور یہ مقدمات ان مقدمات کے علاوہ ہیں جو جائیداد وغیرہ کے متعلق دادا صاحب کی زندگی میں اور اُن کے بعد پیش آتے رہے۔اوّل۔سب سے پہلا مقدمہ یہ ہے جو بابو رلیا رام مسیحی وکیل امرتسر کی مخبری پر محکمہ ڈاک کی طرف سے آپ پر دائر کیا گیا تھا۔یہ مقدمہ بہت پرانا ہے۔یعنی براہین احمدیہ کی اشاعت سے بھی قبل کا ہے۔( غالبا ۱۸۷۷ء کا) حضرت مسیح موعود نے اس کا کئی جگہ ذکر کیا ہے۔مگر سب سے مفصل ذکر اس کا اُس خط میں ہے جو حضرت صاحب نے مولوی محمد حسین بٹالوی کو اس کے فتویٰ تکفیر کے بعد لکھا تھا۔اور جو آئینہ کمالات اسلام میں شائع ہو چکا ہے۔دوسرے۔وہ خطر ناک فوجداری مقدمہ جو مارٹن کلارک مسیحی پادری نے اقدام قتل کے الزام کے ماتحت حضرت کے خلاف دائر کیا تھا۔اس کی ابتدائی کارروائی یکم اگست ۱۸۹۷ء کو امرتسر میں بعدالت ای مارٹینو