سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 216 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 216

سیرت المہدی 216 حصہ اوّل ہے کہ ” بیان کیا مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم۔اے“ اس سے مطلب یہ ہے کہ مولوی صاحب موصوف کو میں نے کوئی معتین سوال دے کر مرزا صاحب موصوف کے پاس بھیجا اور اس کا جو جواب مرزا صاحب کی طرف سے دیا گیا وہ نقل کیا گیا اور جہاں مولوی صاحب کی طرف روایت کو منسوب کیا ہے وہاں میرے کسی معتین سوال کا جواب نہیں بلکہ جو مرزا صاحب نے دوران گفتگو میں مولوی صاحب کو کوئی بات بتائی وہ فقل کی گئی ہے۔235 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم۔اے کہ ایک دفعہ قادیان میں ہیضہ پھوٹا اور چوہڑوں کے محلہ میں کیس ہونے شروع ہوئے۔دادا صاحب اُس وقت بٹالہ میں تھے یہ خبر سن کر قادیان آگئے اور چوہڑوں کے محلہ کے پاس آ کر ٹھہر گئے اور چوہڑوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔اور ان کو تسلی دی اور پھر حکم دیا کہ قادیان کے عطار آملہ۔کشئے۔گرہ (یعنی قند سیاہ لیتے آویں اور پھر اُن کو مٹی کے بڑے بڑے برتنوں میں ڈلوا دیا اور کہا کہ جو چاہے گڑ والا پیئے اور جو چاہے نمک والا پیئے۔کہتے ہیں کہ دوسرے دن مرض کا نشان مٹ گیا۔236 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے جبکہ میں سیالکوٹ میں تھا۔ایک دن بارش ہو رہی تھی جس کمرہ کے اندر میں بیٹھا ہوا تھا اس میں بجلی آئی۔سا را کمرہ دھوئیں کی طرح ہو گیا اور گندھک کی سی بو آتی تھی لیکن ہمیں کچھ ضرر نہ پہنچا۔اسی وقت وہ بجلی ایک مندر میں گری جو کہ تیجا سنگھ کا مندر تھا اور اس میں ہندوؤں کی رسم کے موافق طواف کے واسطے پیچ در پیچ ارد گرد دیوار بنی ہوئی تھی اور اندر ایک شخص بیٹھا تھا۔بجلی تمام چکروں میں سے ہو کر اندر جا کر اس پر گری اور وہ جل کر کوئلہ کی طرح سیاہ ہو گیا۔دیکھو وہی بجلی آگ تھی جس نے اسکو جلادیا مگر ہم کو کچھ ضرر نہ دے سکی کیونکہ خدا تعالیٰ نے ہماری حفاظت کی۔ایسا ہی سیالکوٹ کا ایک اور واقعہ ہے کہ ایک دفعہ رات میں ایک مکان کی دوسری منزل پر سویا ہوا تھا اور اسی کمرہ میں میرے ساتھ پندرہ یا سولہ آدمی اور بھی تھے۔رات کے وقت شہتیر میں ٹک ٹک کی آواز