سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 215 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 215

سیرت المہدی 215 حصہ اوّل بڑی مسجد ( یعنی مسجد اقصی کی جگہ کو پسند کیا اس جگہ سکھ کا داروں کی حویلی تھی۔جب یہ جگہ نیلام ہونے لگی تو دادا صاحب نے اس کی بولی دی مگر دوسری طرف دوسرے باشندگان قصبہ نے بھی بولی دینی شروع کی اور اس طرح قیمت بہت چڑھ گئی۔مگر دادا صاحب نے بھی پختہ قصد کر لیا تھا کہ میں اس جگہ میں ضرور مسجد بناؤں گا خواہ مجھے اپنی کچھ جائداد فروخت کرنی پڑے۔چنانچہ سات سو روپیہ میں یہ جگہ خریدی اور اس پر مسجد بنوائی۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس وقت کے لحاظ سے اس جگہ کی قیمت چند گنتی کے روپے سے زیادہ نہ تھی مگر مقابلہ سے بڑھ گئی۔233 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ تمہاری تائی کے سارے گھر میں صرف مرز اعلی شیر کی ماں یعنی مرزا سلطان احمد کی نانی جو حضرت صاحب کی ممانی تھی حضرت صاحب سے محبت رکھتی تھی اور ان کی وجہ سے مجھے بھی اچھا سمجھتی تھی باقی سب مخالف ہو گئے تھے۔میں جب اُس طرف جاتی تھی تو وہ مجھے بڑی محبت سے ملتی تھی اور کہا کرتی تھی۔ہائے افسوس ! یہ لوگ اسے ( یعنی حضرت صاحب کو ) کیوں بددعائیں دیتے اور برا بھلا کہتے ہیں۔اسے میری چراغ بی بی نے کتنی منتوں سے ترس ترس کر پالا تھا اور کتنی محبت اور محنت سے پرورش کی تھی۔والدہ صاحبہ کہتی ہیں کہ وہ بہت بوڑھی ہوگئی تھی اور وقت گزارنے کے لئے چرخہ کاتی رہتی تھی۔حضرت صاحب کو بھی اس سے محبت تھی اور والدہ صاحبہ نے بیان کیا کہ تمہاری تائی کہتی ہیں کہ حضرت صاحب کی ممانی کا نام بھی تمہاری دادی کی طرح چراغ بی بی تھا۔234 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مولوی رحیم بخش صاحب نے کہ اُن سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بیان کیا کہ جو عورت والد صاحب کو کھانا دینے جاتی تھی وہ بعض اوقات واپس آکر کہتی تھی ”میاں اُن کو ( یعنی حضرت صاحب کو ) کیا ہوش ہے۔یا کتابیں ہیں اور یا وہ ہیں“۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ ناظرین کو یاد ہوگا کہ میں نے تمہید میں یہ لکھا تھا کہ میں بغرض سہولت تمام روایات صرف اردو زبان میں بیان کروں گا۔خواہ وہ کسی زبان میں کہی گئی ہوں۔سو جانا چاہیے کہ فقرہ مندرجہ بالا بھی دراصل پنجابی میں کہا گیا تھا۔یہ صرف بطور مثال کے عرض کیا گیا ہے نیز ایک اور عرض بھی ضروری ہے کہ جہاں خاکسار نے یہ لکھا