سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 217
سیرت المہدی 217 حصہ اوّل آئی۔میں نے آدمیوں کو جگایا کہ شہتیر خوفناک معلوم ہوتا ہے یہاں سے نکل جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ کوئی چوہا ہو گا خوف کی بات نہیں اور یہ کہہ کر سو گئے۔تھوڑی دیر کے بعد پھر ویسی آواز آئی تب میں نے ان کو دوبارہ جگایا مگر پھر بھی انہوں نے کچھ پروا نہ کی۔پھر تیسری بار شہتیر سے آواز آئی تب میں نے ان کو سختی سے اُٹھایا اور سب کو مکان سے باہر نکالا اور جب سب نکل گئے تو خود بھی وہاں سے نکلا۔ابھی دوسرے زینہ پر تھا کہ وہ چھت نیچے گری اور وہ دوسری چھت کو ساتھ لے کر نیچے جاپڑی اور سب بچ گئے۔ایسا ہی ایک دفعہ ایک بچھو میرے بسترے کے اندر لحاف کے ساتھ مرا ہوا پایا گیا اور دوسری دفعہ ایک بچھو لحاف کے اندر چلتا ہوا پکڑا گیا۔مگر ہر دو بار خدا نے مجھے ان کے ضرر سے محفوظ رکھا۔ایک دفعہ میرے دامن کو آگ لگ گئی تھی مجھے خبر بھی نہ ہوئی۔ایک اور شخص نے دیکھا اور بتلایا اور آگ کو بجھا دیا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ باتیں حضرت صاحب کی ڈائری سے لی گئی ہیں اور بچھو اور آگ لگنے کا واقعہ ضروری نہیں کہ سیالکوٹ سے متعلق ہو۔237 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ براہین احمدیہ حصہ سوم صفحہ ۲۴۸ پر حضرت مسیح موعود تحریر فرماتے ہیں ” اس احقر نے ۱۸۶۴ء یا ۱۸۶۵ء میں اسی زمانہ کے قریب کہ جب یہ ضعیف اپنی عمر کے پہلے حصہ میں ہنوز تحصیل علم میں مشغول تھا۔جناب خاتم الانبیاء ﷺ کو خواب میں دیکھا اور اس وقت اس عاجز کے ہاتھ میں ایک دینی کتاب تھی کہ جو خود اس عاجز کی تصنیف معلوم ہوتی تھی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کتاب کو دیکھ کر عربی زبان میں پوچھا کہ تو نے اس کتاب کا کیا نام رکھا ہے؟ خاکسار نے عرض کیا کہ اس کا نام میں نے قطبی رکھا ہے، جس نام کی تعبیر اب اس اشتہاری کتاب کی تالیف ہونے پر یہ کھلی کہ وہ ایسی کتاب ہے کہ جو قطب ستارہ کی طرح غیر متزلزل اور مستحکم ہے جس کے کمال استحکام کو پیش کر کے دس ہزار روپیہ کا اشتہار دیا گیا ہے۔غرض آنحضرت ﷺ نے وہ کتاب مجھ سے لے لی۔اور جب وہ کتاب حضرت مقدس نبوی کے ہاتھ میں آئی تو آنجناب کا ہاتھ مبارک لگتے ہی ایک نہایت خوش رنگ اور خوبصورت میوہ بن گئی کہ جو امرود سے مشابہ تھا۔مگر بقدر تر بوز تھا۔آنحضرت نے جب اس میوہ کو تقسیم کرنے کیلئے قاش قاش کرنا چاہا تو اس قدر اس میں سے شہر نکلا کہ آنجناب کا ہاتھ مبارک مرفق تک شہد سے بھر