سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 203 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 203

سیرت المہدی 203 حصہ اوّل خواہیں دیکھیں کہ دادا صاحب کو یہ خیال بدلنا پڑا۔چنانچہ انہوں نے ایک دفعہ خواب میں دیکھا کہ کوئی سفید ریش بڑھا شخص ان کو ایک کاغذ جس پر کچھ لکھا ہوا ہے بطور تعویذ کے دے گیا ہے۔جب آنکھ کھلی تو ایک بھوج پتر کا ٹکڑا ہاتھ میں تھا جس پر قرآن شریف کی بعض آیات لکھی ہوئی تھیں۔پھر انہوں نے ایک اور خواب دیکھا کہ وہ کسی دریا میں چل رہی ہیں جس پر انہوں نے ڈر کر پانی پانی کی آواز نکالی اور پھر آنکھ کھل گئی۔دیکھا تو ان کی پنڈلیاں تر تھیں اور تازہ ریت کے نشان لگے ہوئے تھے۔دادا صاحب کہتے تھے کہ ان باتوں سے خلل دماغ کو کوئی تعلق نہیں۔200 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم۔اے کہ ایک دفعہ والد صاحب سخت بیمار ہو گئے اور حالت نازک ہوگئی اور حکیموں نے ناامیدی کا اظہار کر دیا اور نبض بھی بند ہوگئی مگر زبان جاری رہی۔والد صاحب نے کہا کہ کیچڑ لا کر میرے اوپر اور نیچے رکھو چنا نچہ ایسا کیا گیا اور اس سے حالت رو با صلاح ہو گئی۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود نے لکھا ہے کہ یہ مرض قولنج زمیری کا تھا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو دکھا یا تھا کہ پانی اور ریت منگوا کر بدن پر ملی جاوے۔سوایسا کیا گیا تو حالت اچھی ہو گئی۔مرزا سلطان احمد صاحب کو ریت کے متعلق ذہول ہو گیا ہے۔201 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مولوی شیر علی صاحب نے کہ حضرت صاحب ایک دفعہ غیر معمولی طور پر غرب کی طرف سیر کو گئے تو راستے سے ہٹ کر عید گاہ والے قبرستان میں تشریف لے گئے اور پھر آپ نے قبرستان کے جنوب کی طرف کھڑے ہو کر دیر تک دعا فرمائی۔خاکسار نے دریافت کیا کہ کیا آپ نے کوئی خاص قبر سامنے رکھی تھی ؟ مولوی صاحب نے کہا میں نے ایسا نہیں خیال کیا اور میں نے اس وقت دل میں یہ سمجھا تھا کہ چونکہ اس قبرستان میں حضرت صاحب کے رشتہ داروں کی قبریں ہیں اس لئے حضرت صاحب نے دعا کی ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ شیخ یعقوب علی صاحب نے لکھا ہے کہ وہاں ایک دفعہ حضرت صاحب نے اپنی والدہ صاحبہ کی قبر پر دعا کی تھی۔مولوی صاحب نے یہ بھی بیان کیا کہ جب حضرت صاحب کی لڑکی امۃ النصیر فوت ہوئی تو حضرت صاحب اسے اسی قبرستان میں دفنانے کیلئے لے