سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 204 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 204

سیرت المہدی 204 حصہ اوّل گئے تھے اور آپ خود اسے اٹھا کر قبر کے پاس لے گئے۔کسی نے آگے بڑھ کر حضور سے لڑکی کو لینا چاہا مگر آپ نے فرمایا کہ میں خود لے جاؤں گا اور حافظ روشن علی صاحب بیان کرتے ہیں کہ اس وقت حضرت صاحب نے وہاں اپنے کسی بزرگ کی قبر بھی دکھائی تھی۔202 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مولوی شیر علی صاحب نے کہ میرے چچا مولوی شیر محمد صاحب مرحوم بیان کرتے تھے کہ اوائل میں بعض اوقات حضرت مسیح موعود بھی حضرت مولوی نورالدین صاحب کے درس میں چلے جایا کرتے تھے۔ایک دفعہ مولوی صاحب نے درس میں بدر کی جنگ کے موقع پر فرشتے نظر آنے کا واقعہ بیان کیا اور پھر اس کی کچھ تاویل کرنے لگے تو حضرت صاحب نے فرمایا کہ نہیں ایسا ہوسکتا ہے کہ فرشتوں کے دیکھنے میں نبی کے ساتھ دوسرے لوگ بھی شریک ہو گئے ہوں۔203 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مولوی شیر علی صاحب نے کہ جب ۴ را پریل ۱۹۰۵ء کا زلزلہ آیا تھا اس دن میں نے حضرت صاحب کو باغ میں آٹھ نو بجے صبح کے وقت نماز پڑھتے دیکھا تھا اور میں نے دیکھا کہ آپ نے بڑی لمبی نماز پڑھی تھی۔204 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مولوی شیر علی صاحب نے کہ ایک دن حضرت صاحب شمال کی طرف سیر کو تشریف لے گئے۔راستہ میں کسی نے حضرت صاحب کے سامنے پیش کیا کہ ذلک لِيَعْلَمَ أَنِّي لَمْ اَخْنُهُ بِالْغَيْبِ (یوسف : ۵۳) والی آیت کے متعلق مولوی نورالدین صاحب نے بیان کیا ہے کہ یہ زلیخا کا قول ہے۔حضرت صاحب نے کہا کہ مجھے کوئی قرآن شریف دکھاؤ چنانچہ ماسٹر عبدالرؤف صاحب نے حمائل پیش کی آپ نے آیت کا مطالعہ کر کے فرمایا کہ یہ تو زلیخا کا کلام نہیں ہوسکتا۔یہ یوسف علیہ السلام کا کلام ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ میں نے دوسرے طریق پر سنا ہے کہ اس وقت وَمَا أُبَرِّئُ نَفْسِي إِنَّ النَّفْسَ لَا مَّارَةٌ بِالسُّوءِ (يوسف: (۵۴) کے الفاظ کا ذکر تھا اور یہ کہ حضرت صاحب نے اس وقت فرمایا تھا کہ یہ الفاظ ہی ظاہر کر رہے ہیں کہ یہ زلیخا کا کلام نہیں بلکہ نبی کا کلام ہے کیونکہ ایسا پاکیزہ، پر معنی کلام یوسف ہی کے شایان شان ہے۔زلیخا کے منہ سے نہیں نکل سکتا تھا۔