سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 202
سیرت المہدی 202 حصہ اوّل والد صاحب کے ساتھ سفروں میں بعض دفعہ بطور خدمت گار کے جایا کرتا تھا۔اور بعض دفعہ کوئی اور آدمی چلا جاتا تھا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ میاں جان محمد قادیان کا ایک نیک مزاج ملا تھا اور حضرت صاحب کے ساتھ بہت تعلق رکھتا تھا۔اوائل میں بڑی مسجد میں نماز وغیرہ بھی وہی پڑھایا کرتا تھا غالبا حضرت خلیفہ ثانی کو بھی بچپن میں اُس نے پڑھایا تھا۔غفارا اُس کا بھائی تھا ، یہ شخص بالکل جاہل اور ان پڑھ تھا۔اور بعض اوقات حضرت صاحب کی خدمت میں رہتا تھا۔بعد میں جب قادیان میں آمد و رفت کی ترقی ہوئی تو اس نے لگے بنا کر یگہ بانی شروع کر دی تھی۔اس کے لڑکے اب بھی یہی کام کرتے ہیں بوجہ جاہل مطلق ہونے کے غفارے کو دین سے کوئی مس نہ تھا مگر اپنے آخری دنوں میں یعنی بعہد خلافت ثانیہ احمدی ہو گیا تھا۔شیخ یعقوب علی صاحب نے لکھا ہے کہ حضرت صاحب کی نصیحت سے غفارے نے اوائل میں جب وہ حضرت صاحب کی خدمت میں تھا نماز شروع کر دی تھی مگر پھر چھوڑ دی۔اصل میں ایسے لوگ اعراب کے حکم میں ہوتے ہیں مگر جان محمد مرحوم نیک آدمی تھا اور کچھ پڑھا ہوا بھی تھا۔اُس کے لڑکے میاں دین محمد مرحوم عرف میاں بگا کو ہمارے اکثر دوست جانتے ہونگے۔قوم کا کشمیری تھا۔198 بسم الله الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم۔اے، کہ ہمارے ساتھ والد صاحب کے بہت کم تعلقات تھے۔یعنی میل جول کم تھا۔وہ ہم سے ڈرتے تھے اور ہم اُن سے ڈرتے تھے ( یعنی وہ ہم سے الگ الگ رہتے تھے اور ہم اُن سے الگ الگ رہتے تھے کیونکہ ہر دو کا طریق اور مسلک جدا تھا ) اور چونکہ تایا صاحب مجھے بیٹوں کی طرح رکھتے تھے اور جائداد وغیرہ بھی سب اُنہی کے انتظام میں تھی۔والد صاحب کا کچھ دخل نہ تھا اس لئے بھی ہمیں اپنی ضروریات کے لئے تایا صاحب کے ساتھ تعلق رکھنا پڑتا تھا۔199 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم۔اے کہ والد صاحب کی ایک بہن ہوتی تھیں ان کو بہت خواب اور کشف ہوتے تھے۔مگر دادا صاحب کی ان کے متعلق یہ رائے تھی کہ ان کے دماغ میں کوئی نقص ہے۔لیکن آخر انہوں نے بعض ایسی