سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 195 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 195

سیرت المہدی ۱۹۱۶ء ہے۔195 حصہ اوّل ان کے علاوہ دو عیسائی امریکن پادریوں نے بھی انگریزی میں حضرت مسیح موعود کے حالات لکھے ہیں۔یعنی (۱) ڈاکٹر گرس فولڈ پروفیسر مشن کالج لاہور اور (۲) مسٹر والٹرسیکرٹری سینگ مین کرسچین ایسوسی ایشن لاہور۔ان میں سے ڈاکٹر گرس فولڈ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ملا تھا۔لیکن مسٹر والٹر نہیں ملا۔مؤخر الذکر کی تصنیف کچھ مفصل ہے اور مقدم الذکر کی مختصر ہے۔گو معلومات عموماً احمد یہ لٹریچر سے حاصل کی گئی ہیں مگر یہ کتابیں واقعات کی غلطی سے خالی نہیں مگر غلطی بالعموم غلط فہمی سے واقع ہوئی ہے۔باقی استدلال و استنباط کا وہی حال ہے جو ایک عیسائی پادری سے متوقع ہو سکتا ہے یعنی کچھ تو سمجھے نہیں اور کچھ سمجھے تو اس کا اظہار مناسب نہیں سمجھا۔تعصب بھی آگ کی ایک چنگاری کی طرح ہے کہ معلومات کے خرمن کو جلا کر خاک کر دیتا ہے۔مگر خاکسار کی رائے میں تعصب کے علاوہ ایک اور چیز بھی ہے جو واقعات کو سمجھنے او صحیح نتائج پر پہنچنے کے رستے میں ایک بہت بڑی روک ہو جاتی ہے اور وہ اجنبیت اور غیر مذہب اور غیر قوم سے متعلق ہونا ہے جس کی وجہ سے آدمی بسا اوقات بات کی منہ تک نہیں پہنچ سکتا۔مگر بہر حال یہ دو تصنیفات بھی قابل دید ہیں۔ان کے علاوہ سلسلہ کے اخبارات و رسالہ جات ہیں۔یعنی الحکم ، البدر۔ریویو (انگریزی و اردو) اور تفخیذ الا ذہان۔جن میں وقتاً فوقتاً حضرت مسیح موعود کے حالات اور ڈائریاں چھپتی رہی ہیں ، ان میں بھی معلومات کا ایک بڑا ذخیرہ موجود ہے۔پھر خود حضرت مسیح موعود کی اپنی تصنیفات ہیں یعنی ۸۰ کے قریب کتب ورسالجات ہیں۔اور دوسو کے قریب اشتہارات ہیں ان میں بھی حضرت صاحب کی سیرت و سوانح کے متعلق ایک بہت بڑا حصہ آ گیا ہے اور ظاہر ہے کہ یہ حصہ سب سے زیادہ معتبر اور یقینی ہے اور در حقیقت حضرت مسیح موعود کے سوانح کے متعلق جتنی کتب شائع ہوئی ہیں وہ سب سوائے حیات النبی کے زیادہ تر صرف حضرت صاحب کے خود اپنے بیان کردہ حالات پر ہی مشتمل ہیں مگر اس ضمن میں ایک بات یاد رکھنی چاہیے اور وہ یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بعض اوقات واقعات کی تاریخ معتین صورت میں یاد نہیں رہتی تھی درحقیقت حافظہ کی مختلف اقسام ہیں۔بعض لوگوں کا حافظ عموماً پختہ ہوتا ہے مگر ایک خاص محدود میدان میں اچھا کام نہیں کرتا اور در اصل تاریخوں کو