سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 13
سیرت المہدی 13 حصہ اوّل مولوی نورالدین صاحب کے اثر کے نیچے آکر جماعت میں داخل ہو گئے ہیں اور انہی کے ساتھ وابستہ ہیں۔تیسری قسم کے وہ لوگ ہیں جن کو خاص میری ذات سے تعلق ہے اور وہ ہر بات میں میری رضا اور میری خوشی کو مقدم رکھتے ہیں۔15 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ جس وقت لاہور میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فوت ہوئے اس وقت حضرت مولوی نورالدین صاحب اس کمرہ میں موجود نہیں تھے جس میں آپ نے وفات پائی۔جب حضرت مولوی صاحب کو اطلاع ہوئی تو آپ آئے اور حضرت صاحب کی پیشانی کو بوسہ دیا اور پھر جلد ہی اس کمرے سے باہر تشریف لے گئے۔جب حضرت مولوی صاحب کا قدم دروازے کے باہر ہوا اس وقت مولوی سید محمد حسن صاحب نے رقت بھری آواز میں حضرت مولوی صاحب سے کہا ” انت صدیقی“ حضرت مولوی صاحب نے فرمایا۔مولوی صاحب یہاں اس سوال کو رہنے دیں قادیان جا کر فیصلہ ہوگا۔خاکسار کا خیال ہے کہ اس مکالمہ کو میرے سوا کسی نے نہیں سنا۔و 16 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تین انگوٹھیاں تھیں۔ایک الیسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ والی جس کا آپ نے کئی جگہ اپنی تحریرات میں ذکر کیا ہے یہ سب سے پہلی انگوٹھی ہے جو دعوئی سے بہت عرصہ پہلے تیار کرائی گئی تھی۔دوسری وہ انگوٹھی جس پر آپ کا الہام غَرَسْتُ لَكَ بِيَدِی رَحْمَتِی وَ قُدْرَتِي الخ درج ہے۔یہ آپ نے دعوئی کے بعد تیار کروائی تھی اور یہ بھی ایک عرصہ تک آپ کے ہاتھ میں رہی۔الہام کی عبارت نسبتا لمبی ہونے کی وجہ سے اس کا نگینہ سب سے بڑا ہے۔تیسری وہ جو آخری سالوں میں تیار ہوئی اور جو وفات کے وقت آپ کے ہاتھ میں تھی۔یہ انگوٹھی آپ نے خود تیار نہیں کروائی بلکہ کسی نے آپ سے عرض کیا کہ میں حضور کے واسطے ایک انگوٹھی تیار کروانا چاہتا ہوں اس پر کیا لکھواؤں حضور نے جواب دیا ”مولا بس“ چنانچہ اس شخص نے یہ الفاظ لکھوا کر انگوٹھی آپ کو پیش کر دی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے وقت ایک شخص نے یہ انگوٹھی آپ کے ہاتھ سے اتار لی تھی پھر اس سے والدہ صاحبہ نے واپس لے لی۔حضرت مسیح موعود کی وفات کے ایک عرصہ بعد والدہ