سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 151
سیرت المہدی 151 حصہ اوّل 66 اسی طرح بعض اور موقعوں پر بھی آپ نے اپنی جماعت کی بہت تعریف کی ہے لیکن بعض نادان اس میں شک کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ صحابہ کرام میں تو ہمیں سب کچھ نظر آتا ہے مگر یہاں بہت کم گو یا مقابلہ کچھ بھی نہیں۔اس دھو کے کا ازالہ یہ ہے کہ بعض ایسی باتیں ہیں کہ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی قائم کردہ جماعت کی حقیقی قدر پہچاننے کے رستہ میں روک ہو رہی ہیں۔مگر صحابہ کرام کے متعلق وہ روک نہیں ہے مثلاً اول ہم عصریت ہے یعنی ایک ہی زمانہ میں ہونا۔جس طرح ہم وطن ہونا۔انسان کی حقیقی قدر کے پہچانے جانے کے رستہ میں روک ہوتا ہے جیسے کہ کہا گیا ہے کہ نبی ذلیل نہیں مگر اپنے وطن میں اسی طرح مثلاً پنجابی میں کہاوت ہے کہ گھر کی مرغی دال برابر ٹھیک اسی طرح ہم عصر ہونا بھی حقیقی قدر کے پہچانے جانے کے رستہ میں ایک بہت بڑی روک ہوتا ہے۔اور عموماً انسان اپنے زمانہ کے کسی آدمی کی بڑائی کو سمجھنے اور تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔اور یہ تعصب گویا طبعی طور پر انسان کے اندر کام کرتا ہے۔پس چونکہ اس زمانہ کے لوگوں کے لئے صحابہ کی جماعت ایک دور دراز کی بات ہے لیکن مسیح موعود کی جماعت خود اپنے زمانہ کی ہے اور اپنی آنکھوں کے سامنے ہے اس لئے وہ بالعموم مسیح موعود کے صحابہ کی قدر پہچان نہیں سکتے ہاں جب یہ زمانہ گذر جائے گا اور حضرت مسیح موعود کی صحبت یافتہ جماعت ایک گزشتہ کی چیز ہو جائے گی تو پھر دیکھنا کہ آئندہ نسلوں میں یہی جماعت کس نظر سے دیکھی جاتی ہے۔دوسری وجہ یہ ہے کہ لوگ عموماً اسلامی تاریخ سے تفصیلی طور پر واقف نہیں مگر یہاں کی باتیں وہ خود اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔صحابہ کی جماعت کے متعلق لوگوں کا عمل عموماً واعظوں کے وعظوں سے ماخوذ ہے اور یہ ظاہر ہے کہ واعظ اپنی بات میں اثر پیدا کرنے کے لئے عموماً خاص خاص موقعوں کی خاص خاص باتوں کو سجا سجا کر بیان کرتا ہے مگر لوگ یہ سمجھنے لگ جاتے ہیں کہ گویا اس جماعت کے سارے افراد سارے حالات میں اسی رنگ میں رنگین تھے اور اسی کے مطابق وہ اپنے ذہن میں نقشہ جما لیتے ہیں۔اور پھر وہ حضرت مسیح موعود کی جماعت کو بھی اسی معیار سے ناپتے ہیں جس کا نتیجہ ظاہر ہے۔اس میں شک نہیں کہ صحابہ کرام جیسا اعلیٰ نمونہ نہ پہلی کسی امت میں نظر آتا ہے نہ اب تک بعد میں کہیں ہوا ہے اور نہ آئندہ ہوگا۔یعنی بحیثیت مجموعی۔مگر احادیث سے ثابت ہے کہ بعض صحابہ میں بھی کمزوریاں تھیں اور کمزوریاں بھی مختلف