سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 152 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 152

سیرت المہدی 152 حصہ اوّل اقسام کی نظر آتی ہیں مگر اس سے صحابہ کے تقدس پر بحیثیت مجموعی کوئی حرف گیری نہیں ہوسکتی اور صحابہ کا بے نظیر ہونا بہر حال ثابت ہے (اے اللہ تو مجھے آنحضرت ﷺ اور مسیح موعود علیہ السلام کی مقدس جماعتوں پر حرف گیری کرنے سے بچا اور مجھے ان کے پاک نمونہ پر چلنے کی توفیق دے)۔تیسری وجہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے صحابہ کے حالات تو اجتماعی حیثیت میں منضبط اور مدون طور پر ہمارے سامنے موجود ہیں لیکن باوجود ہمعصر ہونے کے حضرت مسیح موعود کے صحابہ کے حالات ابھی تک ہمارے سامنے اس طرح موجود نہیں ورنہ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود کے صحابہ میں بھی بے شمار ایسے اعلیٰ نمونے موجود ہیں کہ جن کے مشاہدہ سے ایمان تر و تازہ ہو جاتا ہے۔جب اسلامی تاریخ کی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے صحابہ کے حالات جمع ہو کر منضبط اور مدون ہوں گے اس وقت انشاء اللہ حقیقت حال منکشف ہوگی۔یہ ایک حقیقت ہے کہ جو تفصیلی حالات آنحضرت ﷺ کے صحابہ کرام کے بحیثیت مجموعی ہم کو معلوم ہیں یا ہو سکتے ہیں وہ خود صحابہ کو بھی معلوم نہیں تھے۔چوتھی وجہ یہ ہے کہ ہر ایک زمانہ کی مختلف خصوصیات اور مختلف حالات ہوتے ہیں۔صحابہ کو مشیت ایزدی سے ایسے جسمانی مواقع پیش آئے جن سے راسخ الایمان لوگوں کا ایمان چھکا اور دنیا میں ظاہر ہوا۔مگر حضرت مسیح موعود کی جماعت کے لئے اس قسم کے ابتلا مقدر نہیں تھے ورنہ ہم اللہ سے امید رکھتے ہیں کہ ان کا ایمان بھی علی قدر مراتب اسی طرح چمکتا اور ظاہر ہوتا۔حضرت مسیح موعود کے صحابہ میں سے صرف دو آدمیوں پر وہ وقت آیا کہ خدا کی راہ میں ان سے ان کی جان کی قربانی مانگی گئی۔اور دنیا دیکھ چکی ہے کہ انہوں نے کیا نمونہ دکھایا۔(اس جگہ میری مراد کابل کے شہداء سے ہے) پانچویں وجہ یہ ہے جس کو لوگ عموما نظر انداز کر دیتے ہیں کہ کسی قوم کے درجہ اصلاح کا اندازہ کرنے کے لئے ان مخالف طاقتوں کا اندازہ کرنا بھی ضروری ہوتا ہے جو اس قوم کو ایمان کے راستہ میں پیش آتی ہیں۔اگر ایک قوم کے مقابل میں مخالف طاقتیں نہایت زبر دست اور خطرناک ہیں تو اس کا ایمان کے راستہ میں نسبتا تھوڑی مسافت طے کرنا بھی بڑی قدر و منزلت رکھتا ہے۔پس صرف یہ دیکھنا کافی نہیں کہ فلاں قوم ایمان کے راستہ پر کس قدر ترقی یافتہ ہے بلکہ یہ بھی دیکھنا ضروری ہوتا ہے کہ اس نے یہ ترقی کن مخالف اب بوقت ایڈیشن دوم یہ تعداد زیادہ ہو چکی ہے۔منہ