سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 150 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 150

سیرت المہدی 150 حصہ اوّل عید الاضحیٰ میں دیا گیا تھا جو ۱۹۰۰ء میں آئی تھی مگر شائع بعد میں ۱۹۰۲ء میں ہوا۔157 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے اصحاب کے متعلق اپنے اشعار میں لکھا ہے۔مبارک وہ جواب ایمان لایا صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا وہی سے ان کو ساقی نے پلا دی فسبحان الذي اخزى الاعادي یعنی مبارک ہے وہ شخص جواب میری موجودگی میں ایمان لاتا ہے کیونکہ وہ میری صحبت میں آکر صحابہ کی جماعت میں داخل ہو جاتا ہے۔اس کی دلیل یہ ہے کہ جو عرفان اور تقویٰ کی مے صحابہ کرام کو لی تھی وہی میرے صحابہ کو بھی دی گئی ہے۔پھر ایک اور موقع پر جب عبدالحکیم خان مرتد نے آپ کی جماعت پر کچھ اعتراضات کئے تو آپ نے اس کے جواب میں تحریر فرمایا کہ : ” آپ کہتے ہیں کہ صرف ایک حکیم مولوی نورالدین صاحب اس جماعت میں عملی رنگ اپنے اندر رکھتے ہیں دوسرے ایسے ہیں اور ایسے ہیں۔میں نہیں جانتا کہ آپ اس افترا کا کیا خدا تعالیٰ کو جواب دیں گے۔میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ کم از کم ایک لاکھ آدمی میری جماعت میں ایسے ہیں کہ سچے دل سے میرے پر ایمان لائے ہیں۔اور اعمال صالحہ بجالاتے ہیں اور باتیں سننے کے وقت اس قدر روتے ہیں کہ ان کے گریبان تر ہو جاتے ہیں۔میں اپنے ہزار ہا بیعت کنندوں میں اس قدر تبدیلی دیکھتا ہوں کہ موسیٰ نبی کے پیرو ان سے جو ان کی زندگی میں ان پر ایمان لائے تھے ہزار ہا درجہ ان کو بہتر خیال کرتا ہوں اور ان کے چہرہ پر صحابہ کے اعتقاد اور صلاحیت کا نور پاتا ہوں۔ہاں شاذ و نادر کے طور پر اگر کوئی اپنے فطرتی نقص کی وجہ سے صلاحیت میں کم رہا ہوتو وہ شاذ و نادر میں داخل ہیں۔میں دیکھتا ہوں کہ میری جماعت نے جس قدر نیکی اور صلاحیت میں ترقی کی ہے یہ بھی ایک معجزہ ہے۔ہزارہا آدمی دل سے فدا ہیں اگر آج ان کو کہا جائے کہ اپنے تمام اموال سے دست بردار ہو جاؤ تو وہ دست بردار ہو جانے کے لئے مستعد ہیں۔پھر بھی میں ہمیشہ ان کو اور ترقیات کے لئے ترغیب دیتا ہوں اور ان کی نیکیاں ان کو نہیں سناتا۔مگر دل میں خوش ہوں۔“