سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 144
سیرت المہدی 144 حصہ اوّل خاکسار عرض کرتا ہے کہ اوّل مولوی میر حسن صاحب موصوف نے جو یہ لکھا ہے کہ حضرت صاحب نے سیالکوٹ میں ایک دو کتابیں انگریزی کی پڑھی تھیں اس سے یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ آپ انگریزی خواں تھے۔ایک یا دو کتابیں پڑھنے کا صرف یہ مطلب ہو سکتا ہے کہ آپ کو حروف شناسی ہوگئی تھی کیونکہ پہلے زمانہ میں جو انگریزی کی پہلی کتاب ہوتی تھی۔اس میں صرف انگریزی کے حروف تہجی کی شناخت کروائی جاتی تھی۔اور دوسری کتاب میں حروف جوڑ کر بعض چھوٹے چھوٹے آسان الفاظ کی شناخت کروائی جاتی تھی۔اور آج کل بھی انگریزی کی ابتدائی ایک دو کتابوں میں قریباً اسی قدر استعداد مد نظر رکھی جاتی ہے۔خاکسار کو یاد ہے کہ جب میں غالبا ساتویں جماعت میں تھا تو ایک دفعہ میں گھر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس کھڑا تھا اور میرے پاس ایک انگریزی طرز کا قلمدان تھا جس میں تین قسم کی سیاہی رکھی جاسکتی ہے۔اس میں Red۔Copying۔Blue کے الفاظ لکھے ہوتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے میرے ہاتھ میں یق قلم دان دیکھا تو اسے اپنے ہاتھ میں لے کر یہ الفاظ پڑھنے چاہے۔مگر مجھے یاد ہے کہ پہلا اور تیسرا تو آپ نے غور کے بعد پڑھ لیا مگر درمیان کے لفظ کے متعلق پڑھنے کی کوشش کی مگر نہیں پڑھ سکے۔چنانچہ پھر آپ نے مجھ سے وہ لفظ پوچھا اور اس کے معنے بھی دریافت فرمائے۔غرض معلوم ہوتا ہے کہ چھوٹے مفرد اور آسان الفاظ آپ غور کرنے سے پڑھ سکتے تھے جس کے یہ معنی ہیں کہ آپ کو انگریزی حروف شناسی ہوگئی بس اس سے زیادہ نہیں۔دوسرے :۔مولوی میر حسن صاحب نے لکھا ہے کہ زمانہ قیام سیالکوٹ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو عربی میں کامل استعداد تھی اور آپ عربی میں تحریر و تقریر کر سکتے تھے۔یہ ریمارک جس رنگ میں مولوی صاحب نے کیا ہے درست ہے۔مگر یہ ایک نسبتی ریمارک ہے۔جس سے صرف یہ مراد ہے کہ اس وقت سیالکوٹ کے ایک خاص حلقہ میں حضرت صاحب کی عربی استعداد دوسروں کی نسبت اچھی تھی اور آپ ایک حد تک عربی میں اپنے ما فی الضمیر کو ادا کر سکتے تھے لیکن ویسے حقیقہ دیکھا جائے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اکتسابی تعلیم عام مروجہ حد سے ہرگز متجاوز نہیں تھی۔اور وہ بھی اس حد تک محدود تھی جو اس وقت قادیان میں گھر پر استادر کھنے سے میسر آ سکتی تھی۔کیونکہ آپ نے کسب علم کے لئے کبھی کسی بڑے مرکز