سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 145 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 145

سیرت المہدی 145 حصہ اوّل یا شہر کا سفر اختیار نہیں کیا۔تیسرے:۔مولوی میر حسن صاحب نے لکھا ہے کہ حضرت صاحب نے سرسید کی تفسیر دیکھی مگر پسند نہیں فرمایا اس کی یہ وجہ ہے کہ گو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سرسید مرحوم کو ایک لحاظ سے قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور انہیں قوم کا ہمدرد اور بہی خواہ سمجھتے تھے لیکن سرسید کے مذہبی خیالات کے آپ سخت مخالف تھے۔کیونکہ مذہبی معاملات میں سرسید کی یہ پالیسی تھی کہ نئے علوم اور نئی روشنی سے مرعوب ہوکر ان کے مناسب حال اسلامی مسائل کی تاویل کر دیتے تھے۔چنانچہ یہ سلسلہ اتنا وسیع ہوا کہ کئی بنیادی اسلامی عقائد مثلاً دعا ، وحی والہام، خوارق و معجزات ، ملائک وغیرہ کے گویا ایک طرح منکر ہی ہو گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سرسید کی یہ حالت دیکھ کر انہیں اپنی کتاب آئینہ کمالات اسلام میں نہایت دردمندانہ طریق پر مخاطب کر کے ان کی اس سخت ضرر رساں پالیسی پر متنبہ فرمایا ہے۔نیز خاکسار عرض کرتا کہ حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفہ اول بھی اوائل میں سرسید کے خیالات اور طریق سے بہت متاثر تھے۔مگر حضرت صاحب کی صحبت سے یہ اثر آہستہ آہستہ ڈھلتا گیا۔مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم مغفور بھی ابتدا میں سرسید کے بہت دلدادہ تھے چنانچہ حضرت صاحب نے بھی اپنے ایک شعر میں ان کے متعلق اس کا ذکر فرمایا ہے۔فرماتے ہیں۔مدتی در آتش نیچر فرو افتاده بود ایس کرامت ہیں کہ از آتش بروں آمد سلیم نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ مولوی میر حسن صاحب کی ایک دوسری روایت حضرت مسیح موعود کے زمانہ سیالکوٹ کے متعلق نمبر ۲۸۰ پر بھی درج ہے۔) 151 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے حافظ روشن علی صاحب نے کہ حضرت مولوی صاحب خلیفہ اول بیان فرماتے تھے کہ ایک دفعہ میں نے کسی شخص سے ایک زراعتی کنواں ساڑھے تین ہزار روپیہ میں رہن لیا مگر میں نے اس سے نہ کوئی رسید لی اور نہ کوئی تحریر کروائی اور کنواں بھی اسی کے قبضے میں رہنے دیا کچھ عرصہ کے بعد میں نے اس سے کنوئیں کی آمد کا مطالبہ کیا تو وہ صاف منکر ہو گیا اور رہن کا ہی انکار کر بیٹھا۔