سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 143 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 143

سیرت المہدی 143 حصہ اوّل الَّذِينَ ظَلَمُوا وَاَزْوَاجَهُمُ - (الصافات : ۲۳) اس جواب سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کیسے نیک باطن تھے۔ایک مرتبہ کسی نے پوچھا کہ انبیاء کو احتلام کیوں نہیں ہوتا ؟ آپ نے فرمایا کہ چونکہ انبیاء سوتے جاگتے پاکیزہ خیالوں کے سوا کچھ نہیں رکھتے۔اور ناپاک خیالوں کو دل میں آنے نہیں دیتے۔اس واسطے ان کو خواب میں بھی احتلام نہیں ہوتا۔ایک مرتبہ لباس کے بارہ میں ذکر ہور ہا تھا، ایک کہتا کہ بہت کھلی اور وسیع موہری کا پاجامہ اچھا ہوتا ہے۔جیسا ہندوستانی اکثر پہنتے ہیں۔دوسرے نے کہا کہ تنگ موہری کا پاجامہ بہت اچھا ہوتا ہے۔مرزا صاحب نے فرمایا کہ :۔’بلحاظ ستر عورت تنگ موہری کا پاجامہ بہت اچھا اور افضل ہے۔اور اس میں پردہ زیادہ ہے۔کیونکہ اس کی تنگ موہری کے باعث زمین سے بھی ستر عورت ہو جاتا ہے۔سب نے اس کو پسند کیا۔آخر مرزا صاحب نوکری سے دل برداشتہ ہو کر استعفیٰ دے کر ۱۸۶۸ء میں یہاں سے تشریف لے گئے۔ایک دفعہ ۱۸۷۷ء میں آپ تشریف لائے۔اور لالہ بھیم سین صاحب کے مکان پر قیام کیا اور بتقریب دعوت حکیم میر حسام الدین صاحب کے مکان پر تشریف لائے۔اسی سال سرسید احمد خاں صاحب غفر له نے قرآن شریف کی تفسیر شروع کی تھی۔تین رکوع کی تفسیر یہاں میرے پاس آچکی تھی۔جب میں اور شیخ الہ داد صاحب مرزا صاحب کی ملاقات کیلئے لالہ بھیم سین صاحب کے مکان پر گئے تو اثناء گفتگو میں سرسید صاحب کا ذکر شروع ہوا۔اتنے میں تفسیر کا ذکر بھی آگیا۔راقم نے کہا کہ تین رکوعوں کی تفسیر آگئی جس میں دعا اور نزول وحی کی بحث آگئی ہے۔فرمایا :۔کل جب آپ آویں تو تفسیر لیتے آویں“ جب دوسرے دن وہاں گئے تو تفسیر کے دونوں مقام آپ نے سنے اور سُن کر خوش نہ ہوئے اور تفسیر کو پسند نہ کیا۔اس زمانہ میں مرزا صاحب کی عمر راقم کے قیاس میں تخمینی ۲۴ سے کم اور ۲۸ سے زیادہ نہ تھی۔غرضیکہ ۱۸۶۴ء میں آپ کی عمر ۲۸ سے متجاوز نہ تھی۔راقم میرحسن