سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 9
سیرت المہدی 9 حصہ اوّل کے مخفی اثرات کے ماتحت اپنے اندر سختی اور تکلیف کا پہلو رکھتا ہے۔چنانچہ منگل کے متعلق حدیث میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول آتا ہے کہ منگل وہ دن ہے جس میں خدا تعالیٰ نے پتھریلے پہاڑ اور ضرر رساں چیزیں پیدا کی ہیں۔دیکھو تفسیر ابن کثیر آیت خلق الارض في يومين الخ ) 12 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام آخری بیماری بیمار ہوئے اور آپ کی حالت نازک ہوئی تو میں نے گھبرا کر کہا اللہ یہ کیا ہونے لگا ہے“ اس پر حضرت صاحب نے فرمایا ” یہ وہی ہے جو میں کہا کرتا تھا خاکسار مختصر عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود ۲۵ مئی ۱۹۰۸ء یعنی پیر کی شام کو بالکل اچھے تھے رات کو عشاء کی نماز کے بعد خاکسار باہر سے مکان میں آیا تو میں نے دیکھا کہ آپ والدہ صاحبہ کے ساتھ پلنگ پر بیٹھے ہوئے کھانا کھا رہے تھے۔میں اپنے بستر پر جا کر لیٹ گیا اور پھر مجھے نیند آ گئی۔رات کے پچھلے پہر صبح کے قریب مجھے جگایا گیا یا شاید لوگوں کے چلنے پھرنے اور بولنے کی آواز سے میں خود بیدار ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اسہال کی بیماری سے سخت بیمار ہیں اور حالت نازک ہے اور ادھر اُدھر معالج اور دوسرے لوگ کام میں لگے ہوئے ہیں۔جب میں نے پہلی نظر حضرت مسیح موعود کے اوپر ڈالی تو میرا دل بیٹھ گیا۔کیونکہ میں نے ایسی حالت آپ کی اس سے پہلے نہ دیکھی تھی اور میرے دل پر یہی اثر پڑا کہ یہ مرض الموت ہے۔اس وقت آپ بہت کمزور ہوچکے تھے۔اتنے میں ڈاکٹر نے نبض دیکھی تو ندارد۔سب سمجھے کہ وفات پاگئے اور یکدم سب پر ایک سناٹا چھا گیا مگر تھوڑی دیر کے بعد نبض میں پھر حرکت پیدا ہوئی مگر حالت بدستور نازک تھی اتنے میں صبح ہوگئی اور حضرت مسیح موعود کی چار پائی کو باہر صحن سے اُٹھا کر اندر کمرے میں لے آئے جب ذرا اچھی روشنی ہوگئی تو حضرت مسیح موعود نے پوچھا کیا نماز کا وقت ہو گیا ہے؟ غالباً شیخ عبد الرحمن صاحب قادیانی نے عرض کیا کہ حضور ہو گیا ہے۔آپ نے بستر پر ہی ہاتھ مار کر تم کیا اور لیٹے لیٹے ہی نماز شروع کر دی مگر آپ اسی حالت میں تھے کہ غشی سی طاری ہوگئی اور نماز کو پورا نہ کر سکے۔تھوڑی دیر کے بعد آپ نے پھر دریافت فرمایا کہ صبح کی نماز کا وقت ہو گیا ہے عرض کیا گیا حضور ہو گیا ہے آپ نے پھر نیت باندھی مگر مجھے یاد نہیں کہ نماز پوری کر سکے