سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 142
سیرت المہدی 142 حصہ اوّل بیٹھے تھے وہیں چلے گئے اور فرش پر بیٹھے رہے۔اور ملاقات کر کے چلے گئے۔چونکہ مرزا صاحب پادریوں کے ساتھ مباحثہ کو بہت پسند کرتے تھے۔اس واسطے مرزا شکتی مخلص نے جو بعد ازاں موحد تخلص کیا کرتے تھے اور مراد بیگ نام جالندھر کے رہنے والے تھے۔مرزا صاحب کو کہا کہ سید احمد خاں صاحب نے تورات و انجیل کی تفسیر لکھی ہے۔آپ ان سے خط و کتابت کریں۔اس معاملہ میں آپ کو بہت مدد ملے گی۔چنانچہ مرزا صاحب نے سرسید کو عربی میں خط لکھا۔کچہری کے منشیوں سے شیخ الہ داد صاحب مرحوم سابق محافظ دفتر سے بہت اُنس تھا۔اور نہایت پکی اور سچی محبت تھی۔شہر کے بزرگوں سے ایک مولوی صاحب محبوب عالم نام سے جو عزلت گزیں اور بڑے عابد اور پارسا اور نقشبندی طریق کے صوفی تھے۔مرزا صاحب کو دلی محبت تھی۔چونکہ جس بیٹھک میں مرزا صاحب مع حکیم منصب علی کے جو اس زمانہ میں وثیقہ نو لیس تھے رہتے تھے اور وہ سر بازار تھی اور اس دکان کے بہت قریب تھی جس میں حکیم حسام الدین صاحب مرحوم سامان دوا سازی اور دوا فروشی اور مطب رکھتے تھے اس سبب سے حکیم صاحب اور مرزا صاحب میں تعارف ہو گیا۔چنانچہ حکیم صاحب نے مرزا صاحب سے قانونچہ اور موجز کا بھی کچھ حصہ پڑھا۔چونکہ مرزا صاحب ملازمت کو پسند نہیں فرماتے تھے۔اس واسطے آپ نے مختاری کے امتحان کی تیاری شروع کر دی۔اور قانونی کتابوں کا مطالعہ شروع کیا۔پر امتحان میں کامیاب نہ ہوئے اور کیوں کر ہوتے وہ دنیوی اشغال کے لئے بنائے نہیں گئے تھے۔سچ ہے ع ہر کسے را بهر کاری ساختند ان دنوں میں پنجاب یونیورسٹی نئی نئی قائم ہوئی تھی۔اس میں عربی استاد کی ضرورت تھی۔جس کی تنخواہ ایک سو روپیہ ماہوار تھی میں نے ان کی خدمت میں عرض کی کہ آپ درخواست بھیج دیں چونکہ آپ کی لیاقت عربی زباندانی کی نہایت کامل ہے۔آپ ضرور اس عہدہ پر مقرر ہو جائیں گے۔فرمایا:۔میں مدرسی کو پسند نہیں کرتا۔کیونکہ اکثر لوگ پڑھ کر بعد ازاں بہت شرارت کے کام کرتے ہیں۔اور علم کو ذریعہ اور آلہ ناجائز کاموں کا بناتے ہیں۔میں اس آیت کے وعید سے بہت ڈرتا ہوں۔اُحْشُرُ وا