سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 111
سیرت المہدی 111 حصہ اوّل روپیہ کے قریب خرچ کیا تھا۔جس کا انجام آخر نا کا می تھی۔کیونکہ ہمارے بزرگوں کے دیہات مدت سے ہمارے قبضہ سے نکل چکے تھے اور ان کا واپس آنا ایک خیال خام تھا۔اسی نامرادی کی وجہ سے حضرت والد صاحب مرحوم ایک نہایت عمیق گرداب غم اور حزن اور اضطراب میں زندگی بسر کرتے تھے۔اور مجھے ان حالات کو دیکھ کر ایک پاک تبدیلی کرنے کا موقعہ حاصل ہوتا تھا کیونکہ حضرت والد صاحب کی تلخ زندگی کا نقشہ مجھے اس بے لوث زندگی کا سبق دیتا تھا۔جو دنیوی کدورتوں سے پاک ہے۔اگر چہ حضرت والد صاحب کے چند دیہات ملکیت باقی تھے اور سر کا رانگریزی کی طرف سے کچھ انعام بھی سالانہ مقرر تھا۔اور ایام ملازمت کی پینشن بھی تھی مگر جو کچھ وہ دیکھ چکے تھے اس لحاظ سے وہ سب کچھ بیچ تھا۔اس وجہ سے وہ ہمیشہ مغموم اور محزون رہتے تھے۔اور بارہا کہتے تھے کہ جس قدر میں نے اس پلید دنیا کے لئے سعی کی ہے اگر میں وہ سعی دین کے لئے کرتا تو شاید آج قطب یا غوث وقت ہوتا اور اکثر یہ شعر پڑھا کرتے تھے۔عمر بگذشت و نماندست جزایا مے چند به که در یاد کے صبح کنم شامے چند اور میں نے کئی دفعہ دیکھا کہ وہ ایک اپنا بنایا ہوا شعر رقت کیساتھ پڑھتے تھے اور وہ یہ ہے۔۔از در تو اے کس ہر بے کسے نیست امیدم که روم نا امید اور کبھی درد دل سے یہ شعرا اپنا پڑھا کرتے تھے۔بآب دیدۂ عشاق و خاکپائے کسے مرا دلیست کہ درخوں تپد بجائے کسے حضرت عزت جل شانہ کے سامنے خالی ہاتھ جانے کی حسرت روز بروز آخری عمر میں ان پر غلبہ کرتی گئی تھی۔بار ہا افسوس سے کہا کرتے تھے کہ دنیا کے بیہودہ خرخشوں کے لئے میں نے اپنی عمر ناحق ضائع کر دی۔ایک مرتبہ حضرت والد صاحب نے یہ خواب بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ ایک بڑی شان کے ساتھ میرے مکان کی طرف چلے آتے ہیں۔جیسا کہ ایک عظیم الشان بادشاہ آتا ہے۔تو میں اُس وقت آپ کی طرف پیشوائی کے لئے دوڑ ا جب قریب پہنچا تو میں نے سوچا کہ کچھ نذر پیش کرنی چاہئیے۔یہ کہہ کر جیب میں ہاتھ ڈالا جس میں صرف ایک روپیہ تھا اور جب غور سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ وہ بھی کھوٹا ہے۔یہ دیکھ کر میں چشم پر آب ہو گیا۔اور پھر آنکھ کھل گئی اور پھر آپ ہی تعبیر فرمانے لگے کہ دنیا داری کے ساتھ خدا