سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 112
سیرت المہدی 112 حصہ اوّل اور رسول کی محبت ایک کھوٹے روپیہ کی طرح ہے اور فرمایا کرتے تھے کہ میری طرح میرے والد صاحب کا بھی آخر حصہ زندگی کا مصیبت اور غم اور حزن میں گذرا اور جہاں ہاتھ ڈالا آخر نا کامی تھی اور اپنے والد صاحب یعنی میرے پڑ دادا صاحب کا ایک شعر بھی سنایا کرتے تھے جس کا ایک مصرع راقم کو بھول گیا ہے اور دوسرا یہ ہے کہ۔ع کہ جب تدبیر کرتا ہوں تو پھر تقدیر ہنستی ہے“ اور یہ غم اور در دان کا پیرانہ سالی میں بہت بڑھ گیا تھا۔اسی خیال سے قریباً چھ ماہ پہلے حضرت والد صاحب نے اس قصبہ کے وسط میں ایک مسجد تعمیر کی کہ جو اس جگہ کی جامع مسجد ہے۔اور وصیت کی کہ مسجد کے ایک گوشہ میں میری قبر ہو۔تا خدائے عز وجل کا نام میرے کان میں پڑتا رہے۔کیا عجب کہ یہی ذریعہ مغفرت ہو۔چنانچہ جس دن مسجد کی عمارت ہمہ وجوہ مکمل ہوگئی اور شاید فرش کی چند اینٹیں باقی تھیں کہ حضرت والد صاحب صرف چند روز بیمار رہ کر مرض پیچش سے فوت ہو گئے۔اور اس مسجد کے اسی گوشہ میں جہاں انہوں نے کھڑے ہو کر نشان کیا تھا دفن کئے گئے۔اللهم ارحمه وادخله الجنة ـ امين قريباً استی یا پچاسی برس کی عمر پائی۔ان کی یہ حسرت کی باتیں کہ میں نے کیوں دنیا کے لئے وقت عزیز کھویا۔اب تک میرے دل پر درد ناک اثر ڈال رہی ہیں اور میں جانتا ہوں کہ ہر ایک شخص جو دنیا کا طالب ہو گا آخر اس حسرت کو ساتھ لے جائے گا۔جس نے سمجھنا ہو سمجھے۔۔۔۔مجھے ایک خواب میں بتلایا گیا تھا کہ اب ان کے انتقال کا وقت قریب ہے۔میں اس وقت لاہور میں تھا جب مجھے یہ خواب آیا تھا تب میں جلدی سے قادیان پہنچا اور ان کو مرض زحیر میں مبتلا پایا لیکن یہ امید ہرگز نہ تھی کہ وہ دوسرے دن میرے آنے سے فوت ہو جائیں گے کیونکہ مرض کی شدت کم ہوگئی تھی اور وہ بڑے استقلال سے بیٹھے رہتے تھے۔دوسرے دن شدت دو پہر کے وقت ہم سب عزیزان کی خدمت میں حاضر تھے کہ مرزا صاحب نے مہربانی سے مجھے فرمایا کہ اس وقت تم ذرا آرام کر لو کیونکہ جون کا مہینہ تھا اور گرمی سخت پڑتی تھی۔میں آرام کیلئے ایک چوبارہ میں چلا گیا۔اور ایک نوکر پیر دبانے لگا کہ اتنے میں تھوڑی سی غنودگی ہو کر مجھے الہام ہوا۔وَ السَّمَاءِ وَالطَّارِق“ یعنی قسم ہے آسمان کی