سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 110
سیرت المہدی 110 حصہ اوّل اور ایک زمانہ دراز تک میں ان کاموں میں مشغول رہا۔مجھے افسوس ہے کہ بہت سا وقت عزیز میرا ان بیہودہ جھگڑوں میں ضائع گیا اور اس کے ساتھ ہی والد صاحب موصوف نے زمینداری امور کی نگرانی میں مجھے لگا دیا۔میں اس طبیعت اور فطرت کا آدمی نہیں تھا۔اس لئے اکثر والد صاحب کی ناراضگی کا نشانہ رہتارہا۔ان کی ہمدردی اور مہربانی میرے پر نہایت درجہ پرتھی۔مگر وہ چاہتے تھے کہ دنیا داروں کی طرح مجھے رو بخلق بناویں۔اور میری طبیعت اس طریق سے سخت بیزار تھی۔ایک مرتبہ ایک صاحب کمشنر نے قادیان میں آنا چاہا میرے والد صاحب نے بار بار مجھ کو کہا کہ ان کی پیشوائی کے لئے دو تین کوس جانا چاہئیے۔مگر میری طبیعت نے نہایت کراہت کی اور میں بیمار بھی تھا اس لئے نہ جاسکا۔پس یہ امر بھی ان کی ناراضگی کا موجب ہوا۔اور وہ چاہتے تھے کہ میں دنیوی امور میں ہر دم غرق رہوں۔جو مجھ سے نہیں ہوسکتا تھا۔مگر تاہم میں خیال کرتا ہوں کہ میں نے نیک نیتی سے نہ دنیا کے لئے بلکہ محض ثواب اطاعت حاصل کرنے کے لئے اپنے والد صاحب کی خدمت میں اپنے تئیں محو کر دیا تھا اور ان کے کے لئے دعا میں مشغول رہتا تھا۔اور وہ مجھے دلی یقین بر بالوالدین سے جانتے تھے اور بسا اوقات کہا کرتے تھے کہ میں صرف ترحم کے طور پر اپنے اس بیٹے کو دنیا کے امور کی طرف توجہ دلاتا ہوں ورنہ میں جانتا ہوں کہ جس طرف اس کی توجہ ہے۔یعنی دین کی طرف صحیح اور سچ بات یہی ہے۔ہم تو اپنی عمر ضائع کر رہے ہیں۔ایسا ہی ان کے زیر سایہ ہونے کے ایام میں چند سال تک میری عمر کراہت طبع کے ساتھ انگریزی ملازمت میں بسر ہوئی۔آخر چونکہ میرا جدا رہنا میرے والد صاحب پر بہت گراں تھا۔اس لئے ان کے حکم سے جو عین میری منشا کے موافق تھا میں نے استعفی دے کر اپنے تئیں اس نوکری سے جو میری طبیعت کے مخالف تھی سبکدوش کر دیا۔اور پھر والد صاحب کی خدمت میں حاضر ہو گیا۔اس تجربہ سے مجھے معلوم ہوا کہ اکثر نوکوی پیشہ نہایت گندی زندگی بسر کرتے ہیں۔اور جب میں حضرت والد صاحب مرحوم کی خدمت میں پھر حاضر ہوا۔تو بدستور ان ہی زمینداری کے کاموں میں مصروف ہو گیا۔مگر اکثر حصہ وقت کا قرآن شریف کے تدبر اور تفسیروں اور حدیثوں کے دیکھنے میں صرف ہوتا تھا۔اور بسا اوقات حضرت والد صاحب کو وہ کتابیں سنایا بھی کرتا تھا۔اور میرے والد صاحب اپنی ناکامیوں کی وجہ سے اکثر مغموم اور مہموم رہتے تھے۔انہوں نے پیروی مقدمات میں ستر ہزار