سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 95 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 95

سیرت المہدی 95 حصہ اوّل میں ایک زلزلہ پیدا کر دیا اس وقت تک بیعت کا سلسلہ تو تھا ہی نہیں کہ مریدین الگ نظر آتے بس عام لوگوں میں چہ میگوئی ہو رہی تھی کہ یہ کیا ہوا۔کوئی کچھ کہتا تھا کوئی کچھ حضور نے بذریعہ اشتہار اور خطوط اعلان فرمایا کہ وحی الہی میں یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ اس وقت جو بچہ کی امیدواری ہے تو یہی وہ پسر موعود ہوگا اور اس طرح لوگوں کی تسلی کی کوشش کی چنانچہ اس پر اکثر لوگ سنبھل گئے اور پیشگوئی کے ظہور کے منتظر رہے۔کچھ عرصہ بعد یعنی اگست ۱۸۸۷ء میں حضرت کے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا جس کا نام بشیر احمد رکھا گیا۔اس لڑکے کی پیدائش پر بڑی خوشی منائی گئی اور کئی لوگ جو متزلزل ہو گئے تھے پھر سنبھل گئے اور لوگوں نے سمجھا کہ یہی وہ موعودلڑکا ہے اور خود حضرت صاحب کو بھی یہی خیال تھا۔گو آپ نے اس کے متعلق کبھی قطعی یقین ظاہر نہیں کیا مگر یہ ضرور فرماتے رہے کہ قرائن سے ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ یہی وہ لڑکا ہے۔واللہ اعلم۔غرض بشیر اول کی پیدائش رجوع عام کا باعث ہوئی مگر قدرت خدا کہ ایک سال کے بعد یہ لڑکا اچانک فوت ہو گیا۔بس پھر کیا تھا ملک میں ایک طوفان عظیم بر پا ہوا اور سخت زلزلہ آیا حتی کہ میاں عبداللہ صاحب سنوری کا خیال ہے کہ ایسا زلزلہ عامۃ الناس کے لئے نہ اس سے قبل کبھی آیا تھا نہ اس کے بعد آیا گویا وہ دعوئی میسحیت پر جوزلزلہ آیا تھا اسے بھی عامتہ الناس کیلئے اس سے کم قرار دیتے ہیں۔مگر بہر حال یہ یقینی بات ہے کہ اس واقعہ پر ملک میں ایک سخت شور اٹھا اور کئی خوش اعتقادوں کو ایسا دھکا لگا کہ وہ پھر نہ سنبھل سکے، مگر تعجب ہے کہ مولوی محمد حسین بٹالوی اس واقعہ کے بعد بھی خوش اعتقادر ہا۔حضرت صاحب نے لوگوں کوسنبھالنے کے لئے اشتہاروں اور خطوط کی بھر مار کر دی اور لوگوں کو سمجھایا کہ میں نے کبھی یہ یقین ظاہر نہیں کیا تھا کہ یہی وہ لڑکا ہے ہاں یہ میں نے کہا تھا کہ چونکہ خاص اس لڑکے کے متعلق بھی مجھے بہت سے الہام ہوئے ہیں جن میں اس کی بڑی ذاتی فضیلت بتائی گئی تھی اس لئے میرا یہ خیال تھا کہ شاید یہی وہ موعود لڑ کا ہو مگر خدا کی وحی میں جو اس معاملہ میں اصل اتباع کے قابل ہے ہر گز کوئی تعیین نہیں کی گئی تھی غرض لوگوں کو بہت سنبھالا گیا چنانچہ بعض لوگ سنبھل گئے لیکن اکثروں پر مایوسی کا عالم تھا اور مخالفین میں پرلے درجہ کے استہزاء کا جوش تھا۔اس کے بعد پھر عامة الناس میں پسر موعود کی آمد آمد کا اس شد و مد سے انتظار نہیں ہوا جو اس سے قبل تھا۔اس کے بعد یکم دسمبر ۱۸۸۸ء کو حضور نے خدا کے اس حکم کے مطابق جو اس سے قریباً دس ماہ