سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 37
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 37 حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون ہم اللہ سے اس کے حکم پر راضی ہوئے اور اس کا کام اسی کے سپرد کیا۔قسم خدا کی رسول اللہ کے بعد کبھی مسلمان آپ کے جیسے شخص ( کی وفات) کی مصیبت نہ اٹھائیں گے۔آپ دین کی عزت اور دین کی حفاظت اور دین کی پناہ میں تھے اور مسلمانوں کے مرجع و مادی اور ان کے فریا درس تھے اور منافقوں پر سخت اور (ان کے ) غصہ ( کا سبب ) تھے۔اللہ آپ کو آپ کے نبی سے ملا دے اور ہمیں آپ کے غم میں صبر کرنے کے ) اجر سے محروم نہ رکھے اور آپ کے بعد ہمیں گمراہ نہ کرے إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون۔راوی کا بیان ہے کہ سب لوگ ( اس تقریر کے وقت ) خاموش رہے یہاں تک کہ حضرت علی نے اپنی تقریر ختم کی اور جب آپ نے یہ تقریر ختم کی تو ) پھر سب روئے یہاں تک کہ ان کے رونے کی آواز بلند ہوئی۔پھر سب نے کہا اے رسول اللہ کے داماد ! آپ نے سچ فرمایا۔(91) شادی اور اولاد حضرت ابوبکر کی چار شادیاں تھیں۔زمانہ جاہلیت میں قتیلہ بنت عبدالعزی سے نکاح کیا جس سے عبد اللہ اور اسماء پیدا ہوئے۔دوسرا نکاح ام رومان کنانیہ سے کیا جن سے عبدالرحمن اور عائشہ (ام المومنین) ہوئے۔زمانہ اسلام میں پہلے حضرت جعفر کی بیوہ حضرت اسماء بنت عمیس سے شادی کی۔جن سے محمد بن ابی بکر ہوئے۔اسی طرح حبیبہ بنت خارجہ بن زید انصاریہ سے نکاح کیا جن سے آپ کی وفات کے بعد ام کلثوم پیدا ہوئیں۔(92) امام الزمان حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔ابوبکر ایک عظیم بہادر ، جری ، عبقری اور مرد خدا تھا۔اس نے ہر اس شخص سے مقابلہ کیا جس نے اسلام کو چھوڑا۔اس نے اسلام کی اشاعت کیلئے شدائد برداشت کیں۔اور ان لوگوں کو ہلاک کیا جنہوں نے جھوٹے نبوت کے دعوے کئے تھے۔۔۔آغاز سے ہی ، جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے، ابو بکر کے لئے میرے دل میں ایک محبت ڈالی گئی ہے اور میں نے اس کی رکاب کو پکڑ لیا اور اس کی پناہ میں آگیا اور تب اللہ نے مجھ پر اپنی رحمت نازل کی اور میری تائید فرمائی اور مجھے ان معزز