سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 36
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 36 حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ پہنچ گئے اور اس کے فضائل حاصل کر لئے اور اس کے سوابق پائے اور (باوجود یکہ یہ کام مشکل تھا مگر ) آپ کی حجت نے کمی نہ کی اور آپ کی بصیرت ضعیف نہ ہوئی اور آپ کے دل نے بزدلی نہ کی اور آپ کا قلب نہ گھبرایا اور آپ ( خلافت میں آکر ) حیران نہیں ہوئے۔آپ مثل پہاڑ کے تھے جسے بادل کا گر جنا اور تیز آندھیاں اپنی جگہ سے نہ ہٹا سکیں اور (اے ابو بکر در حقیقت) آپ موافق ارشاد رسول اللہ کے اپنی رفاقت اور مال سے سب سے زیادہ رسول ﷺ اللہ پر احسان کرنے والے تھے اور نیز حسب ارشاد نبوی آپ اپنے بدن میں ضعیف تھے مگر خدا کے کام میں قومی تھے۔منکسر النفس تھے مگر خدا کے نزدیک با عظمت تھے۔لوگوں کی نظروں میں جلیل ( القدر ) تھے ان کے دلوں میں بزرگ تھے۔کسی شخص کو آپ پر موقع نہ ملتا تھا اور نہ کوئی گرفت کرنے والا آپ میں عیب نکال سکتا تھا اور نہ کوئی آپ سے (خلاف حق) کی طمع کر سکتا تھا اور نہ کسی کی آپ کے یہاں ( ناجائز ) رعایت تھی (جو) ضعیف و ذلیل تھا وہ آپ کے نزدیک قوی غالب تھا۔یہاں تک کہ آپ اس سے حق دار کا حق لے لیتے تھے۔اس بارہ میں قریب و بعید آپ کے نزدیک یکساں تھے۔سب سے زیادہ مقرب آپ کے یہاں وہ تھا جو اللہ کا بڑا مطیع اور اس سے بڑا ڈر نے والا تھا۔آپ کی شان حق ( کام کرنا ) اور بیچ بولنا اور نرمی کرنا تھی۔آپ کی بات (لوگوں کیلئے ) حکم اور قطعی ( حکم ) تھی اور آپ کا کام سرا سر حلم و ہوشیاری تھا۔آپ کی رائے علم اور عزم تھی آپ نے جب مفارقت کی تو (ہم کو اس حال میں چھوڑا) که راهہ صاف تھی اور دشواریاں آسان ہوگئی تھیں۔اور ( ظلم و تعدی کی ) آگ بجھ گئی تھی اور آپ ( کی ذات) سے ایمان قوی ہوگیا تھا اور اسلام مستحکم اور مسلمان ثابت قدم ہو گئے تھے اور خدا کا حکم ظاہر ہو گیا تھا اگر چہ کافروں کو نا گوار گزرا۔پس خدا کی قسم (اے ابو بکر) آپ (اوصاف حسنہ میں سب سے ) بڑھ گئے اور بہت دور پہنچے اور آپ نے اپنے بعد کے لوگوں کو سخت تعب ( و تکلیف) میں ڈالا ( کیونکہ امور خلافت میں آپ کی جیسی کوئی شخص کوشش نہیں کر سکتا ) اور واضح طور پر خیر تک پہنچے اب آپ نے (اپنی وفات کے صدمہ سے سب کو ) رونے ( اور غم کرنے ) میں مبتلا کیا۔آپ کی مصیبت (وفات ) آسمان میں بڑی با عظمت ہے اور آپ کے (فراق) کی مصیبت نے لوگوں کو شکستہ ( دل اور ویران خاطر ) کر دیا۔