سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 436 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 436

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ احد میں فدائیت اور جانثاری 436 حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ معرکہ احد میں بھی حضرت ابوطلحہ نے شجاعت و بہادری کے خوب جو ہر دکھائے اور جان ہتھیلی پر رکھ رسول کریم ﷺ کی حفاظت کا حق ادا کر دکھایا۔حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ احد کے دن جب کفار کے غیر متوقع حملہ سے مسلمانوں کی پسپائی ہوئی اور ایک وقت میں نبی کریم ﷺ چند صحابہ کے ساتھ میدان میں رہ گئے۔اس وقت ابوطلحہ نبی کریم ﷺ کے آگے ڈھال بن گئے۔کفار کے تیروں اور نیزوں کا واحد نشانہ رسول اللہ علے تھے اور ابوطلحہ آپ کے آگے سینہ سپر تھے۔آپ زبردست تیرانداز تھے۔بدر کے دن اس مرد میدان نے ایسی بلا کی تیراندازی کی کہ دو تین کمانیں توڑ ڈالیں۔ایک شخص کے پاس تیروں کا تھیلا ہوتا تھا اس کی ڈیوٹی تیراندازوں کو تیر مہیا کرنا تھی۔نبی کریم اسے فرماتے تھے کہ ابوطلحہ کے آگے تیر ڈال دو اور پھر جب ابوطلحہ نشانہ باندھ کر تیر چلاتے تو رسول اللہ ﷺ کی نظریں اس کا تعاقب کرتیں اور آپ سر اٹھا کر دیکھنا چاہتے کہ اس مجاہد کا تیر دشمن کی صفوں میں کہاں جاکے پڑا ہے۔ابوطلحہ کو اپنے سے زیادہ اپنے آقا کی جان عزیز تھی۔وہ نہایت ادب اور محبت سے عرض کرتے میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں یوں سراٹھا کے نہ دیکھا کیجئے۔کہیں دشمن کا کوئی تیر میرے آقا کو گزند نہ پہنچائے۔اللہ کے رسول ﷺ ! میں جو آپ کے آگے سینہ سپر ہوں۔میرا سینہ آپ کی طرف پھینکے گئے ہر تیر کو کھانے کیلئے تیار ہے۔(21) خوش نصیب ابوطلحہ انصار کے ساتھ میدان احد میں ہی ایک اور بزرگ جانثار صحابی (جو قریش سے مہاجرین میں سے تھے ) حضرت طلحہ بن عبید اللہ کو بھی نبی کریم علے کے آگے پیچھے لڑنے اور کما ل فدائیت سے آپ کا دفاع کرنے کی سعادت عطا ہوئی۔وہی طلحہ جنہوں نے رسول اللہ علیہ کے چہرہ کی حفاظت کے لئے اپنا ہاتھ بطور ڈھال تیروں کے آگے کر دیا تھا اور ہاتھ کی انگلیاں شل ہو کر وہ ٹنڈا ہو گیا تھا۔(22) نام اور فدائیت میں مشابہت کے باعث بعض دفعہ ابوطلحہ (انصاری) اور طلحہ بن عبید اللہ (قریشی ) میں امتیاز نہیں رہتا اور تشابہ پیدا ہو جاتا ہے اس لئے یہ فرق مدنظر رکھنا ضروری ہے۔