سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 437
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ خیبر 437 حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کا یہ جان نثار اور فدائی ابوطلحہ غزوہ خیبر میں بھی اپنے آقا کے ہمرکاب تھا۔اور رسول اللہ ﷺ کے قرب میں رہ کر خدمات کی سعادت پا تا رہا، حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ میں ابوطلحہ کی سواری پر ان کے پیچھے سوار تھا۔جب ہم خیبر پہنچے تو ابوطلحہ کی سواری رسول اللہ ﷺ کی سواری کے اس قدر قریب تھی کہ میرے گھٹنے نبی کریم اللہ کی رانوں کو چھورہے تھے۔(23) غزوہ خیبر سے واپسی پر بھی ابوطلحہ رسول کریم ﷺ کی حفاظت کے خیال سے قدم بقدم آپ کے ساتھ رہے۔ایک موقع پر جب نبی کریم ﷺ کی وہ اونٹنی ٹھوکر لگنے سے گری جس پر حضور کے ساتھ ام المومنین حضرت صفیہ بھی سوار تھیں، حضور ﷺ کے ساتھ وہ بھی گر پڑیں۔باوفا ابوطلحہ نے دیوانہ وار اپنے اونٹ سے چھلانگ لگا دی اور لپک کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا میرے آقا! میں آپ پر قربان آپ کو کوئی گزند تو نہیں پہنچی۔کوئی چوٹ تو نہیں آئی۔آپ نے فرمایا نہیں تم پہلے عورت یعنی حضرت صفیہ کی خبر گیری کرو۔ابو طلحہ نے کمال حیاداری کے ساتھ پہلے اپنے چہرہ پر کپڑا ڈال کر پردہ کیا تب ام المومنین کی طرف رخ کیا۔اور پھر وہ کپڑا انہیں اوڑھا دیا اور حضرت صفیہ اطمینان سے اٹھ کر سنبھل گئیں۔ابو طلحہ نے دریں اثناء حضور ﷺ کی اونٹنی کا پالان مضبوطی سے باندھا پھر حضور ﷺ کو اور حضرت صفیہ کو سوار کروا کے روانہ کیا۔(24) فتح مکہ اور حنین میں شرکت فتح مکہ اور غزوہ حنین کے تاریخی معرکوں میں بھی حضرت ابوطلحہ شریک ہوئے۔حنین کے موقع پر آپ کی زوجہ حضرت ام سلیم اپنے پاس ایک خنجر لئے شریک سفر تھیں۔حضرت ابوطلحہ نے برسبیل تذکرہ نبی کریم ﷺ سے اس کا ذکر کر دیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ام سلیم بھی کمر بند میں خنجر اڑ سے پھرتی ہیں۔حضور اللہ نے ان سے پوچھ لیا کہ آپ اس خنجر کو کیا کریں گی؟ وہ بولیں اگر کوئی دشمن رسول میرے قریب آیا تو اسے ٹھکانے لگائے بغیر نہ چھوڑوں گی۔(25) حسنین کے موقع پر بھی ابوطلحہ نے شجاعت کے خوب جو ہر دکھائے۔نبی کریم ﷺ نے اعلان