سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 435 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 435

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 435 حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ بغیر ممکن نہیں، چنانچہ شراب کی حرمت سے پہلے کا واقعہ ہے حضرت ابوطلحہ کے گھر میں ہم جلیسوں کی ایک محفل جمی ہوئی تھی۔مہمانوں کی تواضع کیلئے حسب دستور شراب بھی پیش کی جارہی تھی کہ دریں اثناء مدینہ کی گلیوں میں ایک منادی کرنے والا یہ اعلان کرتا سنائی دیا کہ اے لوگو ! سنو شراب حرام کر دی گئی ہے۔اس اعلان کا سننا تھا کہ ابوطلحہ نے اس نوجوان کو جو شراب کے جام تقسیم کر رہا تھا حکم دیا کہ شراب کے مٹکے تو ڑ دو اور ساری شراب بہادو اور اس نوجوان نے بھی فوری تعمیل کی اور چند لمحوں میں مدینہ کے گلی کوچوں میں یہ شراب بہنے لگی اور کسی نے اعلان کرنے والے سے پلٹ کر کوئی سوال تک نہیں کیا اور بے چون و چراں اس اعلان کی تعمیل کر دی گئی۔(18) عقل محو حیرت ہے کہ جب شراب کے جام لنڈھائے جارہے ہوں ایسے میں اطاعت کا یہ شاندار نمونہ کہ محض ایک منادی کرنے والے کے اعلان پر شراب کے مٹکے تو ڑ کر اسے بہا دیا جائے اور کسی قسم کی تصدیق تحقیق کرنے کی بجائے تعمیل حکم کو اولیت دی جائے۔اطاعت کی یہ ادا ئیں حضرت محمد مصطفی ﷺ کے تربیت یافتہ غلاموں میں ہی نظر آتی ہیں۔غزوات میں شرکت حضرت ابوطلحہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ غزوات میں شریک ہو کر شجاعت اور ایثار و فدائیت کے مظاہرے کرتے رہے۔غزوہ بدر میں بھی آپ شریک تھے خود بیان کرتے تھے کہ جنگ بدر میں اسلامی لشکر کفار مکہ کے بالمقابل صف آراء تھا اور مسلمانوں کو تازہ دم کرنے اور ان کے آرام اور تسکین کیلئے عارضی طور پر نیند کے غالب آنے کا جو نشان عطا کیا گیا اس کا سورہ انفال کی ابتدائی آیات میں ذکر ہے آپ اس الہی نشان کے بذات خود شاہد تھے۔چنانچہ میدان بدر میں اونگھ آجانے کے باعث آپ کے ہاتھ سے تلوار گر جاتی تھی آپ پھر پکڑتے اور وہ پھر گرتی تھی۔(19) حضرت ابوطلحہ زبردست جنگجو تھے بلند آواز رکھتے تھے اور میدان جنگ میں شیر کی طرح گرج کر دشمن پر حملہ آور ہوتے تھے۔نبی کریم ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ لشکر میں تنہا ابوطلحہ کی آواز ایک جماعت کی آواز پر بھی بھاری ہوتی ہے۔(20)