سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 293
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 293 حضرت بلال بن رباح رضی اللہ عنہ آواز پہنچے اور اقامت ذرا تیزی سے کہا کرو۔اذان کے کلمے دو دو دفعہ دہراؤ اور اقامت کے کلمات ایک دفعہ دہرایا کرو۔(9) ایک موقع پر جب بلال اذان نہ دے سکے۔کسی اور شخص نے اذان کہی اور بلال حسب عادت اقامت کہنے لگے تو آنحضرت ﷺ نے سمجھایا کہ جو اذان کہتا ہے اقامت اسی کا حق ہے۔بلال اوقات نماز کے منتظم تھے۔آنحضرت ﷺ کو نمازوں کے اوقات میں اطلاع کرتے اور نمازوں کے لئے بلاتے تھے۔ایک موقع پر وہ فجر کی اذان کے بعد جب آنحضرت ﷺ کو بلانے کے لئے گئے تو حضور و نوافل ادا کرنے کے بعد آرام فرما رہے تھے بلال نے آواز دی الصَّلوةُ خَيْرُ مِنَ النَّوْمِ نماز نیند سے بہتر ہے۔آنحضرت ﷺ کو اپنے اس غلام کے یہ کلمے اتنے پسند آئے کہ آپ نے فجر کی اذان میں ان کو شامل کرنے کا ارشادفرمایا۔(10) حضرت بلال نظر میں خرابی کے باعث صبح کی اذان بہت جلدی دے دیا کرتے تھے۔آنحضرت فرماتے تھے کہ بلال تو تہجد کے وقت ہی اذان دے دیا کرتا ہے۔اس لئے جو روزے رکھنے والے ہیں وہ بے شک کھاتے پیتے رہیں جب تک کہ عبد اللہ بن مکتوم اذان دے۔(11) فروگذاشت پر رسول اللہ کا رد عمل اور شفقت ایک دن بلال نے غلطی سے کوئی آدھی رات کو ہی اذان کہہ دی۔آنحضرت علیہ نے ان کو بلا کر فرمایا اب جاؤ اور مدینہ کی گلیوں میں اعلان کرو کہ مجھ سے غفلت ہوئی اور وقت کا پتہ نہیں چلا اور وقت سے پہلے اذان کہہ بیٹھا۔خیبر کے سفر کا واقعہ ہے آنحضرت عالیہ واپس تشریف لا رہے تھے آدھی رات سے زیادہ وقت گزر چکا تھا۔صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کچھ دیر آرام کر لیں۔آپ نے فرمایا کہ مجھے نماز فجر کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہے۔حضرت بلال نے عرض کیا فجر کی نماز پر جگانے کا ذمہ میں لیتا ہوں۔بلال کہتے ہیں پڑاؤ کیا گیا سب لوگ سو گئے اور میں اپنے اونٹ کے پالان کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔مگر آنکھ لگ گئی اور اس وقت کھلی جب سورج کی گرم شعاعوں نے مجھے جگایا۔سب سے پہلے آنحضرت ﷺ کی آنکھ کھلی حضور ﷺ نے پہلی بات ہی یہ پوچھی بلال کہاں ہے؟ اور جب میں