سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 292
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 292 حضرت بلال بن رباح رضی اللہ عنہ کہ کیا کبھی وہ دن بھی آئے گا جب ہم واپس اپنے پیارے وطن مکہ لوٹیں گے اور وہی جانی پہچانی گھاس اذخر اور جلیل ہمارے دائیں بائیں ہوگی اور ہاں کیا وہ دن بھی آئے گا جب ہم مجنہ کے چشموں کا پانی پئیں گے۔اور شامہ اور طفیل کے علاقوں میں دوبارہ جائیں گے۔آنحضرت ﷺ کو جب بلال کی یہ حالت عائشہ نے جا کر بتائی تو حضور ﷺ کی طبیعت میں دعا کی طرف توجہ ہوئی آپ نے دُعا کی کہ اے مولی مدینہ کی اس وبا کو یہاں سے دور کر دے اور کسی اور علاقہ میں لے جا۔مولی ! جو لوگ مکہ سے ہجرت کر کے یہاں آئے ہیں ان کو مدینہ ایسا محبوب کر دے اس کا ایسا پیار ان کے دلوں میں پیدا کر دے کہ مکہ کی طرح بلکہ اس سے کہیں بڑھ کر مدینہ انہیں پیارا ہو جائے۔(7) یہ دعا جس طرح قبول ہوئی اس کا ذکر آگے آئے گا۔مؤذن اسلام مدینہ میں حضرت بلال کی بڑی سعادت اسلام کا پہلا موذن ہونے کی خدمت ہے۔اس سے قبل مسلمان نماز کے لئے وقت کا اندازہ کیا کرتے تھے۔مدینہ میں جب زیادہ لوگ جمع ہو گئے تو تجویز میں ہونے لگیں کہ نماز کے وقت میں ناقوس بجایا جائے یا قرنا (سینگ) پھونکا جائے۔یہ مشورے ہورہے تھے کہ حضرت عبداللہ بن زید نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ میں نے رویا میں دیکھا ہے کہ ایک شخص اذان کے کلمات مجھے سناتا ہے۔آنحضرت ﷺ نے وہ کلمات سن کر حضرت بلال کو یاد کیا۔اور عبداللہ سے فرمایا کہ بلال کو یہ کلمات بتاتے جائیں کیونکہ بلال کی آواز بہت اونچی ہے اور لمبی سانس کے ساتھ یہ آواز کولمبا بھی کر لیتے ہیں۔اس لئے اذان یہ کہیں گے۔یوں بلال اسلام کے پہلے موذن ٹھہرے اور اپنی بلند ، خوبصورت آواز کی وجہ سے آنحضرت ﷺ کی زندگی میں اذان کی یہ سعادت سفر و حضر میں انہیں کو نصیب ہوتی رہی۔(8) الله شفقت رسول علیہ اور حوصلہ افزائی حضور کے اس قرب اور صحبت کے نتیجہ میں بلال نے اعلیٰ تربیت کے بہت مواقع پائے۔حضور انہیں سمجھاتے تھے کہ بلال ! جب اذان کہو تو ذرا آواز کو لمبا کر کے کلمات دہرا کر کہا کرو تا کہ دُور تک