سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 243 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 243

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 243 حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ اور اسید بن حضیر نے ان دونوں داعیان الی اللہ کو اس نئے دین سے باز رکھنے کا فیصلہ کیا۔جس کے بعد اسید بن حضیر مصعب کی مجلس میں نیزہ تھامے داخل ہوئے۔اسعد بن زرارہ نے یہ دیکھتے ہی مصعب سے سرگوشی کی کہ یہ اپنی قوم کا سردار آتا ہے اسے آج خوب تبلیغ کرنا۔مصعب بولے کہ اگر یہ چند لمحے بیٹھ کر بات سننے پر آمادہ ہو جائے تو میں ضرور اس سے بات کروں گا۔ادھر ا سید بن حضیر سخت کلامی کرتے ہوئے آگے بڑھے اور کہا کہ جان کی امان چاہتے ہو تو آئندہ سے ہمارے کمزوروں کو آکر بے وقوف بنانے کا یہ طریقہ واردات ختم کرو۔حضرت مصعب نے نہایت محبت سے کہا کیا آپ ذرا بیٹھ کر ہماری بات سنیں گے؟ اگر تو آپ کو بات بھلی لگے تو مان لیجئے اور بری لگے تو بے شک اس سے گریز کریں۔اُسید منصف مزاج آدمی تھے، بولے بات تو تمہاری درست ہے۔اور پھر نیزہ وہیں گاڑ کر بیٹھ گئے۔حضرت مصعب نے انہیں قرآن پڑھ کر سنایا اور ان تک پیغام حق پہنچایا۔قران کی سچی تعلیم سن کر اُسید بے اختیار کہہ اٹھے کہ یہ کیسا خوبصورت کلام ہے! اچھا یہ بتاؤ اس دین میں داخل ہونے کے لئے کیا کرنا پڑتا ہے؟ اسعد اور مصعب نے انہیں بتایا کہ نہا دھو کر اور صاف لباس پہن کر حق کی گواہی دو پھر نماز پڑھو۔انہوں نے ایسا ہی کیا۔پھر اُسید خود ہی کہنے لگے کہ میرا ایک اور بھی ساتھی ہے۔یعنی سعد بن معاذ ، اگر وہ مسلمان ہو جائے تو اس کی ساری قوم سے ایک شخص بھی قبول اسلام سے پیچھے نہیں رہے گا۔اور میں ابھی اسے تمہارے پاس بھیجتا ہوں۔اور انہوں نے سعد کو نہایت حکمت کے ساتھ مصعب کے پاس بھیجا۔حضرت مصعب بن عمیر نے ان کو بھی نہایت محبت اور شیریں گفتگو سے رام کر لیا۔انہیں قرآن سنا کر اسلام کا پیغام پہنچایا۔چنانچہ حضرت سعد نے بھی اسلام قبول کر لیا۔بلاشبہ یہ دن مدینہ میں اسلام کی فتح کے بنیا در رکھنے والا دن تھا۔جس روز ایسے عظیم الشان با اثر سرداروں نے اسلام قبول کیا جنہوں نے اپنی قوم کو یہ کہ دیا میرا کلام کرنا تم سے حرام ہے جب تک مسلمان نہ ہو جاؤ۔اس طرح عبد الاشہل کا سارا قبیلہ مسلمان ہو گیا۔(12) اور یوں مدینہ کے گھرانوں میں اسلام تیزی سے پھیلنے لگا۔حضرت مصعب نے ایک سال تک مدینہ میں اشاعت اسلام کے لئے خوب سرگرمی سے کام کیا اور دعوت الی اللہ کے شیریں پھل آپ کو عطا ہوئے چنانچہ اگلے سال سن ۱۲ نبوی میں حج کے موقع