سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 242 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 242

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 242 حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کے نام سے مشہور ہے۔جب یہ لوگ مدینہ واپس جانے لگے تو ان کی تعلیم و تربیت اور مدینہ میں دعوت اسلام کی مہم جاری کرنے کے لئے نبی کریم ﷺ نے مصعب بن عمیر کو ساتھ بھجوایا۔(9) ابن سعد کے مطابق اہل مدینہ کے نو مسلموں کے مطالبہ پر دینی تعلیم کے لئے حضرت مصعب کو بعد میں بھجوایا گیا۔بہر حال حضرت مصعب وہاں پہنچ کر مدینہ کے سردا را سعد بن زرارہ کے گھر قیام کیا۔مدینہ جاتے ہی تعلیم القرآن کا سلسلہ شروع کیا اور مقری یعنی استاد کے نام سے مشہور ہوئے۔آپ نمازوں میں امامت کے فرائض بھی انجام دینے لگے۔(10) مدینہ میں با قاعدہ نماز جمعہ جاری کرنے کی تاریخی سعادت بھی حضرت مصعب کے حصے میں آئی۔آپ نے نبی کریم کی خدمت میں لکھا کہ اگر حضور ﷺ اجازت عطا فرما ئیں تو مدینہ میں نماز جمعہ شروع کر دی جائے۔حضور ﷺ نے اجازت دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جس روز یہودی اپنے سبت کا اعلان کرتے ہیں۔اس روز سورج کے ڈھلنے کے بعد دو رکعت نماز ادا کر کے خطبہ جمعہ دیا کرو۔حضرت مصعب بن عمیر نے مدینہ میں نماز جمعہ کا آغاز کر دیا۔حضرت سعد بن خیثمہ کے گھر جو پہلا جمعہ پڑھا گیا۔اس میں مدینہ کے بارہ افراد شامل ہوئے۔اسلام کے اس پہلے جمعہ کے موقعہ پر مسلمانوں نے خوشی میں ایک بکری ذبح کی۔اور یوں جمعہ میں شامل اپنے بھائیوں کی ضیافت کا بھی اہتمام کیا۔(11) حضرت مصعب نے اسلام کے پہلے مبلغ کے طور پر بھی تبلیغ کا حق خوب ادا کیا۔آپ نے دعوت الی اللہ کے جذبہ سے سرشار ہو کر کمال محنت، اخلاص اور حکمت و محبت کے ساتھ مدینہ کے اجنبی لوگوں سے رابطہ اور اثر و رسوخ پیدا کر کے انہیں اسلام سے روشناس کرایا اور تھوڑے ہی عرصہ میں مدینہ کے ہر گھر میں اسلام کا بیج بو دیا۔ایک کامیاب داعی الی اللہ کے طور پر ان کا کردار یقیناً آج بھی ہمارے لئے عمدہ نمونہ ہے۔آپ نے بالکل اجنبی شہر مدینہ میں تبلیغ کا آغاز اس طرح کیا کہ اپنے میزبان حضرت اسعد بن زرارہ کو ساتھ لے کر انصار کے مختلف محلوں میں جانے لگے۔وہاں وہ مسلمانوں اور ان کے عزیزوں کے ساتھ مجلس کرتے انہیں تعلیم دین دیتے اور وہاں آنے والوں کو اسلام کا پیغام پہنچاتے۔مگر جب لوگوں میں اسلام کا چرچا ہونے لگا تو ایک محلہ کے سردار سعد بن معاد