سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 169
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 169 حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بر پا ہو گا جس میں بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے اور کھڑا ہونے والا چلنے والے سے بہتر ہوگا۔“ امارت کی خواہش نہ تھی۔حضرت عثمان کی وفات کے بعد آپ کے بیٹے عمرؓ اور بھائی نے کہا کہ اپنے لئے بیعت لیں۔اس وقت ایک لاکھ تلوار میں آپ کی منتظر اور ساتھ دینے کو تیار ہیں۔آپ نے فرمایا ” مجھے ان میں سے صرف ایک ایسی تلوار چاہیے جو مومن پر کوئی اثر نہ کرے صرف کافر کو کاٹے۔“ آپ اس فتنہ کے زمانہ میں گھر بیٹھ رہے اور فرمایا ” مجھے اس وقت کوئی خبر بتا نا جب امت ایک امام پر اکٹھی ہو جائے۔“ امیر معاویہ نے بھی انہیں مدد کو بلایا تو انہوں نے انکار کر دیا۔حضرت عمرؓ نے حضرت سعد کے بارے میں عمرو بن معدی کرب سے ( جو انکے علاقہ سے آئے تھے ) رائے لی تو انہوں نے بتایا کہ " سعد اپنے خیمہ میں متواضع ہیں۔اپنے لباس میں عربی ہیں، اپنی کھال میں شیر ہیں۔اپنے معاملات میں عدل کرتے ہیں تقسیم برابر کرتے ہیں اور لشکر میں دور رہتے ہیں ، ہم پر مہربان والدہ کی طرح شفقت کرتے ہیں اور ہمارا حق ہم تک چیونٹی کی طرح ( محنت سے ) پہنچاتے ہیں۔حضرت سعد بیان کرتے تھے کہ ایک زمانہ تھا جب عسرت اور تنگی سے مجبور ہو کر ہمیں درختوں کے پتے بھی کھانے پڑے اور کوئی چیز کھانے کو میسر نہ ہوتی تھی۔اور ہم بکری کی طرح مینگنیاں کرتے تھے۔(15) جب حکومتوں کے مالک ہوئے تو خدا تعالیٰ نے ان مخلص خدام دین کو خوب نوازا۔مختلف وقتوں میں نو بیویاں کیں سترہ لڑکے اور سترہ لڑکیاں ہوئیں۔غذا اور لباس کی سادگی میں کوئی فرق نہ آیا۔کبھی تکبر یا غرور پیدا نہیں ہوا۔بلکہ سپہ سالاری اور گورنری کے اہم مناصب سے سبکدوش ہونے کے بعد بھی بکریاں چرانے میں تامل نہیں کیا۔رسول کریم ﷺ نے آپ کے حق میں ایک اور دعا مستجاب الدعوات ہونے کیلئے کی تھی کہ ”اے اللہ سعد جب دعا کرے اس کی دعا کو قبول کرنا یہ دعا مقبول ٹھہری اور حضرت سعد کی دعائیں بہت قبول ہوتی تھیں لوگ آپ سے قبولیت دعا کی امید رکھتے اور بددعا سے ڈرتے تھے۔(16) عامر بن سعد سے روایت ہے ایک دفعہ حضرت سعد ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو