سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 168 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 168

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 168 حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ مدائن میں کچھ عرصہ قیام کے بعد حضرت سعد نے فاتح فوج کیلئے حضرت عمر کے حکم پر سرحدی علاقہ میں ایک نئے شہر کوفہ کی بنیا د رکھی۔جہاں مختلف قبائل کو الگ الگ محلوں میں آباد کیا۔وسط شہر میں ایک عظیم الشان مسجد بنوائی جس میں چالیس ہزار نمازیوں کی گنجائش تھی۔اب کوفہ ایک لاکھ مسلمان سپاہیوں سے ایک فوجی چھاؤنی میں تبدیل ہو چکا تھا، حضرت سعد کے بارہ میں کچھ انتظامی شکایات پیدا ہونے لگیں۔حضرت عمر نے تحقیق کروائی۔حضرت جریر بن عبداللہ نے حضرت عمر کو آکر بتایا کہ حضرت سعد اپنی رعایا سے شفیق ماں کی طرح سلوک کرتے ہیں اور عوام کو قریش میں سے سب سے زیادہ محبوب شخصیت ہے۔حضرت عمر نے یہ معلوم کر لینے کے باوجود کہ الزام بے بنیاد ہے کوفہ کی امارت کی تبدیلی کرنا ہی مناسب سمجھی اور حضرت سعد مدینہ آکر آباد ہو گئے۔حضرت عمرؓ نے دوبارہ انکو والی کوفہ مقرر کرنا چاہا تو انہوں نے اہل کوفہ کی ناروا شکایات کی وجہ سے معذوری ظاہر کی جو حضرت عمر نے قبول کی اور فرمایا کہ میں نے سعد کو ان کی کمزوری یا خیانت کی وجہ سے معزول نہیں کیا تھا اور آئندہ ان کو والی مقرر کرنے میں کوئی روک نہیں۔“ حضرت عمر کو آخر عمر تک آپ کی خاطر ملحوظ رہی۔چنانچہ آپ نے انتخاب خلافت کمیٹی مقرر کی جو چھ افراد پر مشتمل تھی۔ان میں حضرت سعد کو بھی نامزد کیا اور فرمایا کہ اگر سعد خلیفہ منتخب ہوئے تو ٹھیک ورنہ جو بھی خلیفہ ہوگا وہ بے شک ان سے خدمت لے۔(14) حضرت عثمان خلیفہ ہوئے تو حضرت سعد دوبارہ کوفہ کے والی مقرر ہوئے اور تین سال یہ خدمت انجام دی۔اس کے بعد حضرت سعد نے مدینہ میں گوشہ نشینی کی زندگی اختیار کر لی۔حضرت عثمان کے بعد حضرت علی کے ہاتھ پر بیعت کی مگر امور مملکت سے بے تعلق رہے۔اس زمانہ کی شورش اور جنگوں میں حصہ نہ لیا۔اسی زمانے میں ایک دفعہ اونٹ چرا ر ہے تھے۔بیٹے نے کہا کیا یہ مناسب ہے لوگ حکومت کیلئے زور آزمائی کریں اور آپ جنگل میں اونٹ چرائیں۔آپ نے اسے یہ کہہ کر خاموش کرا دیا کہ میں نے رسول اللہ سے سنا ہے کہ خدا مستغنی اور متقی انسان سے محبت کرتا ہے۔“ زہد و تقویٰ کا یہ عالم تھا کہ ایک آزمودہ کار جرنیل ہونے کے باوجود فتنے کے زمانہ میں کنج تنہائی اختیار کرنے کو ترجیح دی۔کوئی پوچھتا تو فرماتے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا ” میرے بعد ایک فتنہ