سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 170 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 170

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 170 حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ حضرت علی، حضرت طلحہ اور حضرت زبیر کو برا بھلا کہہ رہا تھا۔حضرت سعد نے اسے کہا کہ تم ایسے لوگوں کو برا بھلا کہہ رہے ہو جن کے ساتھ اللہ کا معاملہ گزر چکا۔خدا کی قسم تم ان کی گالی گلوچ سے باز آؤ ورنہ میں تمہارے خلاف بد دعا کروں گا۔وہ کہنے لگا یہ مجھے ایسے ڈراتا ہے جیسے نبی ہو۔حضرت سعد نے کہا اے اللہ ! اگر یہ ایسے لوگوں کو برا بھلا کہتا ہے جن کے ساتھ تیرا معاملہ گزر چکا تو اسے آج عبرت ناک سزا دے۔اچانک ایک بد کی ہوئی اونٹنی آئی لوگوں نے اسے راستہ دیا اور اس اونٹنی نے اس شخص کو روند ڈالا۔راوی کہتے ہیں میں نے لوگوں کو دیکھا وہ سعد کے پیچھے جا کر بتا رہے تھے کہ اے ابواسحاق ! اللہ نے تیری دعا قبول کر لی۔امارت کوفہ کے زمانہ میں جس شخص نے آپ پر جھوٹے الزام لگائے تھے اس کے بارے میں بھی آپ کی دعا قبول ہوئی اور وہ خدائی گرفت میں آیا۔(17) وفات آپ مدینہ سے دس میل دور عقیق مقام پر ستر سال کی عمر میں 55ھ میں فوت ہوئے۔جنازہ مدینہ لایا گیا۔ازواج مطہرات کی خواہش پر اس بزرگ صحابی کا جنازہ کندھوں پر مسجد نبوی میں لایا گیا اور امہات المومنین بھی نماز جنازہ میں شریک ہوئیں۔مروان بن حکم نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی۔آپ جنت البقیع میں دفن ہوئے اور اپنے عظیم الشان کارناموں کی یادیں باقی چھوڑ گئے۔آپ عشرہ مبشرہ میں سے تھے یعنی ان دس صحابہ میں سے جن کو رسول اللہ علیہ نے اپنی زندگی میں جنت کی بشارت عطا فرمائی۔رسول اللہ ﷺ کی دعا کی برکت سے لمبی عمر پائی اور عشرہ مبشرہ میں سے سب سے آخر میں فوت ہوئے۔آپ کا علمی پایہ بہت بلند تھا حضرت عمرہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ ” جب سعد رسول اللہ ﷺ سے کوئی حدیث بیان کریں تو پھر اس بارہ میں کسی اور سے مت پوچھو۔“ حضرت سعد نہایت اعلیٰ اخلاق کے مالک تھے۔خوف خدا اور عبادت گزاری کا یہ عالم تھا کہ رات کے آخری حصے میں مسجد نبوی میں آکر نمازیں ادا کرتے تھے ، طبیعت رہبانیت کی طرف مائل تھی۔مگر فرماتے تھے کہ رسول اللہ اللہ نے اگر اس سے روکا نہ ہوتا میں اسے ضرور اختیار کر لیتا۔“ نظر بہت تیز تھی ایک دفعہ دور سے کچھ ھیولا سا نظر آیا تو ہمراہیوں سے پوچھا کیا ہے؟ انہوں نے کہا