سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 144 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 144

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 144 حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ تشریف لے گئے۔اسلامی فوجوں کے سالا را علیٰ حضرت ابوعبیدہ سادہ کپڑوں میں ایک اونٹنی پر سوار ہو کر استقبال کے لئے نکلے۔مگر جب حضرت عمرؓ نے دیگر مسلمان جرنیلوں کو شامی قبائیں پہنے دیکھا ( جوانہوں نے خلیفہ وقت کے استقبال اور اعزاز کی خاطر زیب تن کی تھیں ) تو اس اندیشہ سے کہ یہ لوگ امیرانہ ٹھاٹھ اور عجمی عادات اور اسراف کی عادات اختیار نہ کرلیں ان کو تنبیہ فرمائی۔مگر جب حضرت ابو عبیدہ کے ہاں فروکش ہوئے تو معاملہ برعکس تھا۔وہاں ایک تلوار، ڈھال اور اونٹ کے پالان کے سوا کچھ نہ تھا۔حضرت عمر نے فرمایا: ابو عبیدہ کچھ گھر کا سامان ہی بنالیا ہوتا۔عرض کیا اے امیر المومنین ہمارے لئے بس یہی کافی ہے۔(34) مجاہدین اسلام سے حسن سلوک آپ اپنے اوپر کچھ خرچ کرنے کی بجائے اپنے مجاہدوں اور سپاہیوں کا بہت خیال رکھتے۔ایک دفعہ حضرت عمر نے آپ کو چار سود دینار اور چار ہزار درہم بطور انعام بھجوائے۔آپ نے تمام رقم اپنی فوج کے سپاہیوں میں تقسیم کر دی اور اپنے لئے ایک حصہ بھی رکھنا پسند نہ کیا۔حضرت عمر کو پتہ چلا تو بے اختیار کہہ اٹھے کہ الحمد للہ ابھی مسلمانوں میں ابو عبیدہ جیسے لوگ موجود ہیں۔(35) بے نفسی اس زہد اور بے نفسی کے باوجو ذخشیت کا یہ عالم تھا کہ آخری بیماری میں ایک صحابی رسول ہے آپ کی عیادت کے لئے حاضر ہوئے۔دیکھا کہ ابو عبیدہ رور ہے ہیں۔پوچھا کیوں روتے ہیں؟ فرمایا اس لئے روتا ہوں کہ رسول کریم ﷺ نے ایک دفعہ مسلمانوں کی فتوحات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ اے ابو عبیدہ اگر تمہاری عمر وفا کرے اور فتوحات کے اموال آئیں تو تین خادم اور تین سواریاں تمہارے لئے کافی ہیں۔اب میں دیکھتا ہوں کہ تم میں سے زیادہ غلام اور سواریاں ہیں۔سوچتا ہوں کہ کس منہ سے اپنے آقا سے ملوں گا۔آپ نے ہمیں وصیت فرمائی تھی کہ تم میں سے زیادہ میرے قریب اور میرا پیارا وہ شخص ہے جو مجھے اس حال سے آکر ملے جس حال پر میں چھوڑ کر جارہا ہوں۔(36)