سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 143 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 143

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 143 حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ طاعون سے بچانے کے لئے مجھے مدینہ بلوار ہے ہیں عرض کیا کہ میں اسلامی لشکر کو چھوڑ کر آنا پسند نہیں کرتا حضرت عمرؓ نے آپ کو ہدایت فرمائی کہ اپنا لشکر کسی پر فضا جگہ پر منتقل کریں۔چنانچہ آپ نے اس کی تعمیل کی اور جابہ منتقل ہو گئے۔(31) بیماری اور وفات جابیہ میں خدا کی وہ تقدیر ظاہر ہوگئی جس کا ابو عبیدہ کو انتظار تھا۔( عین ممکن ہے ان کا مدینہ نہ جانے پر اصرار بھی اس تقدیر الہی کا کوئی واضح اشارہ پانے کے نتیجہ میں ہو ) حضرت ابوعبیدہ بیمار ہوئے تو معاذ بن جبل کو اپنا جانشین مقرر فرمایا اور مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ: ”اے لوگو طاعون کی وبا بھی فی الحقیقت تمہارے رب کی رحمت اور تمہارے نبی کی دعوت ہے۔بہت سے نیک لوگ اس میں جاں بحق ہوئے اور ابوعبیدہ بھی اپنے رب سے یہی دعا کرتا ہے کہ وہ مجھے اس شہادت سے حصہ عطاء فرمائے۔پھر اسی طاعون سے آپ کی وفات ہوئی۔(31) اس طرح ابو عبیدہ کی شہادت کی وہ بچی تمنا جو میدان جنگ میں پوری نہ ہوسکی تھی 58 سال کی عمر میں طاعون کے ذریعہ خدا نے پوری فرما دی۔(32) آپ کا جنازہ وصیت کے مطابق حضرت معاذ بن جبل نے پڑھایا اور اس موقع پر صحابہؓ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ”اے لوگو آج تم سے ایک ایسا شخص رخصت ہوا ہے کہ خدا کی قسم مجھے یقین ہے کہ اس سے زیادہ صاف دل، پاک سینہ ، سیر چشم ، حیاء دار اور لوگوں کا بہی خواہ میں نے کوئی نہیں دیکھا۔پس اٹھو اور ا سکے لئے رحمت کی دعا مانگو۔“ (33) واقعی حضرت ابو عبیدہ کی زندگی سادگی، عجز و انکسار، امانت و دیانت اور رعایا پروری کا خوبصورت نمونہ تھی۔سادگی آپ کی سادگی اور دنیا سے بے رغبتی کا ایک نظارہ اس وقت دیکھنے میں آیا جب حضرت عمرؓ شام