سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 145 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 145

145 حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ثابت بنانی بیان کرتے ہیں ابو عبیدہ شامی فوجوں کے کمانڈر انچیف تھے۔ایک دن افواج سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ تم میں سے کوئی مجھے اپنے اوپر تقویٰ میں فضلیت نہ دے میں تو صرف یہ چاہتا ہوں کہ سلامت رہوں۔“ (37) حضرت ابو عبیدہ کی دانشمندی بے نفسی اور قومی مفاد کو پیش نظر رکھنے کا وہ واقعہ بھی تاریخ میں ہمیشہ سنہرے حروف سے لکھا جائے گا کہ حضرت ابو عبیدہ کو حضرت عمرؓ کا خط ملا۔جس میں حضرت ابو بکر کی وفات کا ذکر تھا اور حضرت عمرؓ نے حضرت خالد کو معزول کرتے ہوئے حضرت ابوعبیدہ کو امیر لشکر مقرر فرمایا تھا تو حضرت ابو عبیدہ نے خالد کو وسیع تر قومی مفاد کے پیش نظر اس وقت تک اس کی اطلاع نہیں کی جب تک اہل دمشق کے ساتھ صلح نہ ہوگئی اور معاہدہ صلح پر آپ نے حضرت خالد سے دستخط کروائے۔حضرت خالد بن ولیڈ کو بعد میں پتہ چلا تو آپ سے شکوہ کیا مگر آپ ٹال گئے اور ان کے کارناموں کی تعریف کرتے ہوئے انہیں مطمئن کر دیا۔اسلامی جرنیل حضرت خالد نے اس موقع پر اطاعت خلافت کا شاندار نمونہ دکھاتے ہوئے کہا لوگو! تم پر اس امت کے امین امیر مقرر ہوئے ہیں۔حضرت ابو عبیدہ نے جواب میں کہا میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ خالد خدا کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے اور قبیلہ کا بہتریں نوجوان ہے۔(38) رواداری حضرت ابو عبیدہ کا حسن سلوک اپنوں سے ہی نہیں پرایوں اور بیگانوں سے بھی رواداری اور احسان کا تھا۔چنانچہ شام کی عیسائی رعایا کو آپ نے مکمل مذہبی آزادی عطا فرمائی اور اسلامی فتوحات کے بعد مفتوحہ علاقوں میں عیسائیوں پر ناقوس بجانے اور صلیب نکالنے کی جو پابندیاں تھیں، آپ نے ان میں نرمی اور آزادی عطا فرمائی۔جس کا عیسائیوں پر بہت نیک اثر ہوا۔الغرض حضرت ابو عبیدہ کو رسول خدا نے امین الامت کا جو خطاب عطا فر مایا تھا انہوں نے اس کی خوب لاج رکھی۔آپ کی ساری زندگی ادائیگی امانات کا خوبصورت مرقع اور بہترین تصویر نظرآتی ہے۔تبھی تو حضرت عمر آپ کو صحابہ رسول میں ایک ممتاز مقام کا حامل قرار دیتے تھے۔ایک دفعہ حضرت عمر نے اپنی مجلس میں ایک نہایت اچھوتے انداز میں حضرت ابو عبیدہ کے