سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 129
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم الجراح (4) 129 حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ بلاشبہ ابوعبیدہ سے رسول خدا کی بیٹی محبت ان کے اخلاص و فدائیت ایثار اور خدمات دینی کے باعث تھی۔انہوں نے عین عالم شباب میں اسلام قبول کیا اور اپنی جوانی خدمت دین میں گزار دی۔ہجرت کا ابتلاء اسلام قبول کرتے ہی حضرت ابو عبیدہ کو جس ابتلاء کا سامنا کرنا پڑا وہ مال و اولا داور وطن کی قربانی کا ابتلاء تھا۔مگر خدا کی خاطر اور دین کو دنیا پر مقدم کرتے ہوئے کمال جواں مردی سے وہ اپنا سب کچھ چھوڑنے کے لئے تیار ہو گئے اور ملکہ کو خیر باد کہہ کر دور دراز کے اجنبی دیس حبشہ کی طرف ہجرت کی۔انہوں نے سفر کی صعوبتیں برداشت کیں، نئے ٹھکانے اور تلاش معاش کے دوران مشکلات اور خوف و ہراس کا سامنا کیا۔جب وہاں کچھ قدم جم گئے تو ہجرت مدینہ کا دوہرا امتحان پیش آیا۔ان کی محبت رسول نے یہ گوارا نہ کیا کہ محبوب آقا تو مدینہ میں ہوں اور وہ حبشہ رہ کر آپ کے قرب اور پاک صحبت سے محروم رہیں۔چنانچہ اس وطن ثانی حبشہ کو بھی خدا اور اس کے رسول کی خاطر ترک کر کے مدینہ منورہ کی طرف دوسری ہجرت کی سعادت پائی اور دو ہجرتوں کے اجر اور ثواب کے حق دار ٹھہرے۔جو بلاشبہ آپ کے لئے باعث اعزاز اور موجب فخر ہے۔جس کا اظہار دو ہجرتوں کا شرف پانے والے صحابہ بہت لطیف انداز میں کیا کرتے تھے۔چنانچہ ایک دفعہ حضرت اسماء بنت عمیس (جنہوں نے ہجرت حبشہ اور ہجرت مدینہ دونوں کی سعادت پائی تھی ) رسول اللہ سے ملاقات کے لئے ام المومنین حضرت حفصہ کے گھر آئیں۔تھوڑی دیر بعد حضرت عمررؓ بھی حضور سے ملنے حاضر ہوئے اور یہ معلوم کر کے کہ حضرت اسماء وہاں موجود ہیں ان سے مخاطب ہو کر از راہ التفات فرمانے لگے کہ ”اے اسماء! ہمیں تم مہاجرین حبشہ پر مدینہ ہجرت کرنے میں اولیت حاصل ہے اور نبی کریم ﷺ سے تعلق اور محبت کے ہم زیادہ حقدار ہیں۔حضرت اسماٹا نے مہاجرین حبشہ کی نمائندگی کا حق خوب ادا کیا۔کہنے لگیں ”اے عمر! آپ کا یہ دعویٰ ہرگز درست نہیں۔آپ لوگ تو آنحضرت ﷺ کی معیت میں رہے۔وہ آپ کے کمزوروں اور فاقہ زدوں کا خود خیال رکھتے اور حتی