سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 128
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم حلیه و نام و نسب 128 حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ حضرت ابو عبیدہ بن الجراح لمبا قد ، دبلاجسم، چھر یا بدن، روشن پیشانی، بارعب چہرہ، تیکھے نقش شخشی داڑھی۔یہ ہیں عبد نبوی ﷺ کے نو جوان صحابی ابو عبیدہ بن الجراح۔اصل نام عامر بن عبد اللہ بن الجراح ہے۔مگر دادا کی نسبت سے معروف ہیں اور نام سے زیادہ کنیت سے مشہور ہیں۔سلسلہ نسب پانچویں پشت میں نبی کریم ﷺ سے مل جاتا ہے۔(1) قبول اسلام وفضائل حضرت ابو عبیدہ رسول اللہ اللہ کے دعویٰ نبوت کے بعد ابتدائی ایمان لانے والوں میں سے ہیں۔انہیں کو دارارقم کے تبلیغی مرکز بننے سے بھی پہلے قبول اسلام کی سعادت نصیب ہوئی۔آپ حضرت ابوبکر صدیق جیسے عظیم الشان داعی الی اللہ کی تبلیغی کوششوں کا شیریں پھل تھے۔سیرتِ صدیقی کی گہری چھاپ ان کے اخلاق و شمائل میں نمایاں نظر آتی ہے۔انہوں نے ایمان واخلاص میں بہت جلد ترقی کی اور اصحاب رسول میں بہت بلند مقام پایا۔آپ ان خوش نصیب دس صحابہ میں سے تھے جنہیں نبی کریم نے اپنی زندگی میں جنت کی بشارت دی۔(2) اللہ تعالیٰ نے حضرت ابو عبیدہ کو خوبصورت اخلاق اور کردار کے ساتھ قیادت کی اعلیٰ صلاحیتوں سے نوازا تھا۔آنحضرت نے ایک دفعہ ان کی اس خوبی کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ خاندان قریش میں سے تین ایسے مردان حق ہیں۔جو نہایت اعلیٰ اخلاق کے حامل، انتہائی حیادار اور مقام سیادت پر فائز ہیں۔اور وہ ہیں ابو بکر و عثمان اور ابوعبیدہ بن الجراح۔(3) پاکیزہ اوصاف کی بناء پر آپ ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی علی کو بہت محبوب تھے، ایک دفعہ حضرت عائشہ نے رسول خدا سے بے تکلف گھر یلو گفتگو کے دوران پوچھا کہ آپ کو اپنے اصحاب میں سے سب سے پیارے کون ہیں؟ آپ نے فرمایا ابو بکر، انہوں نے پوچھا پھر کون؟ فرمایا عمر، حضرت عائشہ نے تیسری مرتبہ پوچھا پھر کون رسول کریم ﷺ نے جواب دیا ابو عبیدہ بن