سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 130 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 130

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 130 حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ الوسع ان کی ضروریات خود پوری فرماتے تھے۔جب کہ ہم اجنبی ملک حبشہ میں تھے جہاں کسی دل میں ہمارے لئے کوئی نرم گوشہ نہ تھا۔ہم سخت اذیتوں سے گزرے اور خوف و ہراس سے دو چار ہوئے اور یہ سب کچھ خدا اور اس کے رسول کی خاطر برداشت کیا ( اور اب آپ ہمیں یہ طعنہ دینے لگے ) خدا کی قسم! میرا کھانا پینا حرام ہے جب تک میں نبی کریم سے دریافت نہ کرلوں کہ حبشہ اور مدینہ ہجرت کرنے والوں میں کس کا درجہ زیادہ ہے۔پھر واقعی حضرت اسماٹا نے نبی کریم کی خدمت میں حضرت عمر کی بات کہ سنائی۔آنحضور نے پوچھا کہ پھر تم نے عمر کو کیا جواب دیا؟ حضرت اسماٹو نے بلا کم و کاست اپنا فصیح و بلیغ جواب بھی عرض کر دیا تو دربار رسالت سے یہ فیصلہ جاری ہوا کہ اے اسمان ! تم ٹھیک کہتی ہو۔عمر اور ان کے ساتھ مدینہ ہجرت کرنے والے محض اس قربانی کی بناء پر مہاجرین حبشہ سے زیادہ میرے تعلق محبت کے مستحق نہیں۔اگر ان کی ایک ہجرت ہے تو بلاشبہ تمہاری دو ہجرتیں ہیں۔( جس کی بناء پر گویا تم دوہرے اجر اور ثواب کے مستحق ہو )۔(5) مقام امین ہجرتوں کی اس دوہری قربانی کے علاوہ حضرت ابو عبید ا کی جس خوبی نے صحابہ میں ممتاز کیا وہ یہ تھی کہ آپ ارشادِ ربانی وَالَّذِينَ هُمْ لاَ مُنْتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رُعُونَ (المومنون: 9) ( یعنی وہ مومن کامیاب ہو گئے جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی حفاظت کرنے والے ہیں ) کے حقیقی مصداق تھے۔حق یہ ہے کہ ایک مومن کامل کا یہی بلند و بالا مقام ہے۔چنانچہ بظاہر نحیف و ناتواں ابوعبیدہ اصحاب رسول میں’القوی الامین کے لقب سے یاد کئے جاتے تھے۔یہ گویا ان کے حق میں زمانے کی شہادت تھی کہ وہ اپنی تمام امانتوں کے حق ادا کرنے میں خوب قادر تھے۔(6) خلق خدا کی اس گواہی پر رسول خدا ﷺ نے اپنی زندگی کے آخری سالوں میں اس وقت مہر تصدیق ثبت فرمائی ، 9 ہجری میں جب نجران کی عیسائی ریاست سے ایک وفد مدینہ آیا اور سالانہ خراج کی ادائیگی پر ان سے مصالحت ہوئی۔اس موقع پر وفد نے رسول اللہ ﷺ سے درخواست کی کہ ہمارے ساتھ خراج کی وصولی کے لئے ایک ایسا شخص بھجوائیں جو امانتوں کا حق خوب ادا کرنے والا ہو۔آپ نے فرمایا: ”ہاں! فکر نہ کرو میں ضرور تمہارے ساتھ ایک نہایت امین شخص روانہ کروں گا۔“