سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 67 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 67

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 67 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ وفات سے پہلے اپنے بیٹے ابن عمر سے پوچھا کہ دیکھو میرے پر کتنا قرض ہے؟ حساب کرنے پر چھیاسی ہزار نکلا۔اس پر آپ نے فرمایا کہ اگر تو میرے خاندان کا مال کفایت کرے تو یہ قرض اس سے ادا کرنا ورنہ اپنے قبیلہ بنی عدی سے مدد حاصل کرنا پھر بھی پورا نہ ہو تو قریش سے مدد لے لینا۔اس سے زیادہ کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلانا۔(63) تواضع و انکسار حضرت عمرؓ کے رعب و ہیبت سے قیصر و کسری کانپتے تھے۔مگر ان کی انکساری کا یہ عالم تھا کہ مدینہ سے اس سفر کے لئے اس طرح روانہ ہوئے کہ ایک سواری پر وہ اور ان کا غلام باری باری سوار ہوتے تھے۔بیت المقدس میں داخل ہوتے وقت شاہانہ پوشاک کی بجائے نہایت سادہ لباس زیب تن کر رکھا تھا۔جس سے تواضع وسادگی صاف عیاں تھی۔(64) حضرت عمرؓ کے زمانہ میں مالی فراخی ہوئی تو لوگوں نے نکاح پر حق مہر بہت زیادہ رکھنے شروع کر دیئے۔آپ نے جائزہ لیا کہ امہات المؤمنین کا حق مہر پانچ سو درہم اور حضرت فاطمہ کا مہر چار سو درہم تھا۔اس سے اجتہاد کرتے ہوئے اعلان کروایا کہ کسی کا مہر بھی رسول اکرم ﷺ کی بیٹی سے زیادہ نہ ہو گا۔جس نے اس سے زیادہ حق مہر رکھا۔اس کی زائد از حق مہر رقم بیت المال کو دلوا دی جائے گی۔اس پر ایک عورت نے قرآن شریف سے دلیل لے کر رائے دی کہ یہ فیصلہ محل نظر ہے۔کیوں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اگر تم نے ان عورتوں میں سے کسی کو ڈھیروں ڈھیر مال دیا ہو تو اس سے کچھ بھی واپس نہ لو (النساء: 20) حضرت عمرؓ نے فرمایا ایک عورت نے ٹھیک کہا ہے اور عمر نے غلطی کھائی ہے۔(65) ضبه بن محصن العنزی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن الخطاب سے کہا کہ آپ حضرت ابو بکر سے بہتر ہیں۔اس پر حضرت عمر رونے لگے اور فرمایا۔” خدا کی قسم حضرت ابوبکر کی ایک رات اور ایک دن ہی عمر اور اس کی اولاد کی پوری زندگی سے بہتر ہے۔کیا میں تمہیں ان کی اس رات اور دن کا کچھ حال سناؤں؟ میں نے کہا ہاں اے امیر المومنین ! اس پر فرمایا ” ان کی رات تو وہ تھی جب رسول اللہ ﷺ کو مکہ سے ہجرت کر کے رات کو جانا پڑا اور حضرت ابو بکر نے ان کا ساتھ دیا اور ان کا دن وہ تھا