سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 68 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 68

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 68 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی اور عرب مرتد ہو کر نماز اور زکوۃ سے منکر ہو گئے اس وقت انہوں نے میرے لوگوں سے نرمی کرنے کے مشورہ کے برخلاف جہاد کا عزم کیا اور اللہ تعالیٰ نے انہیں اسمیں کامیاب کر کے ثابت فرمایا کہ وہ حق پر تھے۔“ (66) نو بے حسی حضرت عمر نے ایک شخص کو نشہ میں پا کر سزا دینے کے لئے پکڑا تو اس نے آپ کو گالی دے دی آپ نے اسے چھوڑ دیا۔پوچھا گیا امیرالمؤمنین آپ نے اسے کیوں چھوڑ دیا حالانکہ اس نے آپ کو گالی بھی دی؟ آپ نے فرمایا کہ ” مجھے غصہ آگیا تھا اور اب اگر میں اسے سزاد یتا تو اس میں میرے نفس کا دخل بھی ہوتا اور مجھے ہرگز پسند نہیں کہ میں اپنے نفس کی خاطر کسی مسلمان کو سزا دوں۔“ (67) ایک طرف ہیبت اور جلال کا یہ عالم تھا کہ دنیا کے بڑے بڑے بادشاہ حضرت عمر کا نام سن کر کا نپتے اور تھراتے تھے دوسری طرف تواضع و انکسار کی یہ کیفیت تھی کہ ایک دن صدقے کے اونٹوں کے بدن پر خود اپنے ہاتھ سے تیل مل رہے تھے۔کسی نے کہا اے امیر المومنین یہ کام کسی خادم سے لیا ہوتا۔فرمانے لگے مجھ سے بڑھ کر غلام اور کون ہوسکتا ہے؟ جو شخص مسلمانوں کا والی ہے وہ ان کا خادم اور غلام ہے۔(68) آپ کے دور خلافت کا واقعہ ہے۔مکہ سے واپسی پر ضبجنان کی گھاٹیوں میں آپ کا قافلہ رُکا اس جگہ کثرت سے درخت اور گھاس پھوس تھی۔حضرت عمرؓ نے فرمایا میں نے وہ زمانہ بھی دیکھا ہے جب میں اپنے والد خطاب کے اونٹ لے کر اس جگہ آیا کرتا تھا۔میرے والد بڑے سخت تھے۔ایک بار میں جنگل سے اونٹ پر ایندھن کی لکڑیاں لے کر جاتا تو دوسری دفعہ جانوروں کے کھانے کے لئے سبز پتے لے کر جاتا۔آج خدا نے مجھے مقام خلافت پر فائز فرمایا ہے جس سے بڑا کوئی مقام نہیں۔پھر یہ شعر پڑھا لَاشَى وَ فِيْمَا تَرَى إِلَّا بَشَاشَتَهِ يَبْقَى الاله وَيُودِى المَالُ وَالوَلَدُ یعنی جو کچھ تمہیں نظر آتا ہے۔اس کی کوئی حقیقت نہیں سوائے ایک عارضی خوشی کے اور باقی