سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 66
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 66 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ حضرت عمرؓ جب خلیفہ مقرر ہوئے تو شان و شوکت کے دلدادہ اس وجود میں کیا انقلابی تبدیلی پیدا ہو چکی تھی۔زمانہ خلافت میں ایک دفعہ صاحبزادی حضرت حفصہ نے عرض کیا کہ ابا جان ! اللہ تعالیٰ نے بہت فضل کئے اور بہت کچھ عطا فرمایا ہے۔اب تو آپ عمدہ لباس سے پرہیز نہ کریں۔حضرت عمرؓ فرمانے لگے کہ " خدا کی قسم میں تو اپنے آقا و مولا کے نقش قدم اور اسوہ پر چلوں گا تا مجھے آخرت کی خوشحالی نصیب ہو۔پھر رسول کریم ﷺ کے زمانے کا ایسا دلگداز ذکر کیا کہ حضرت حفصہ بھی رونے لگیں۔سادگی کا یہ عالم تھا کہ پیوند لگے ہوئے کپڑے پہنے میں بھی کوئی عار محسوس نہ کرتے تھے حتی کہ وہی لباس پہن کر مجلس میں بھی تشریف لے جاتے تھے۔(60) امانت حضرت عمر فرماتے تھے میں اللہ کے مال کے ساتھ اپنی نسبت یتیم کے مال کا معاملہ کرتا ہوں۔جب تک حاجت نہ ہو میں اس سے بچتا ہوں۔اور اگر ضرورت ہوتو جائز طور پر استعمال کر لیتا ہوں۔آپ حسب ضرورت بیت المال سے قرض لیتے تھے۔کبھی تنگ دستی کی حالت میں بیت المال کا نگران قرض کا مطالبہ کرتا تو کچھ مہلت لے کر انتظام فرما دیتے۔زمانہ خلافت میں بھی اپنا ذریعہ معاش تجارت رکھا اور شام جانے والے قافلے میں اپنا حصہ ڈالتے تھے۔ایک دفعہ جب قافلہ تیار تھا۔حضرت عبدالرحمان بن عوف سے قرض لینا چاہا تو انہوں نے کہا کہ بیت المال سے قرض لے لیں۔فرمایا ”وہاں سے اس لئے تجارتی قرض نہیں لیتا کہ اگر میں فوت ہو گیا تو تم کہو گے اس کا قرض معاف کر دو۔میں ایسے شخص سے قرض لینا چاہتا ہوں جو بعد میں میرے مال سے اپنا قرض وصول کرے۔‘‘ (61) حضرت عمرؓ کی دیانت کا یہ عالم تھا کہ بیمار ہوئے تو اطباء نے آپ کے لئے شہد کا علاج تجویز کیا۔بیت المال میں شہد موجود تھا۔لیکن آپ نے مسلمانوں کی اجازت کے بغیر اس کا استعمال پسند نہ کیا۔لوگوں کو مسجد نبوی میں جمع کیا۔اور سب سے اجازت طلب کی کہ ”میں بیماری کی حالت میں بیت المال سے شہر ذاتی استعمال میں لانا چاہتا ہوں۔اگر تم اجازت دو گے تو میں استعمال کرونگا ورنہ یہ مجھ پر حرام ہے۔“ (62)