سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 48 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 48

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 48 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ حضرت عمرؓ نے عرض کیا نہیں یا رسول اللہ آپ نے یہ تو نہیں فرمایا۔حضور نے فرمایا کہ میں اب بھی یہ کہتا ہوں کہ ہم امن کے ساتھ طواف کریں گے۔آنحضرت نے اس موقع پر حضرت عمر گومزید تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ ” میں خدا کا رسول ہوں اور خدا کے حکم کے بغیر کچھ نہیں کرتا اور وہی میرا ساتھی اور مددگار ہے۔حضرت عمر کو بعد میں اپنے ان سوالات کی وجہ سے بہت ندامت ہوتی تھی۔اس کی تلافی کے طور پر انہوں نے بہت صدقہ اور خیرات بھی کیا۔خیر! معاہدہ صلح ہوا جس پر حضرت عمرؓ کے بھی دستخط ہوئے اور رسول اللہ علیہ نے واپسی کا سفر اختیار فرمایا۔حدیبیہ سے واپسی کے دوران سورۃ فتح نازل ہوئی آنحضرت نے سب سے پہلے حضرت عمرؓ کو یاد فرمایا۔حضرت عمرؓ کہتے ہیں ” میں سخت خوف زدہ تھا کہ آنحضرت ﷺ کا بلاوا ہے کہیں میرے بارہ میں ہی کوئی وحی نہ اتری ہو۔“ جب حضور کی خدمت میں حاضر ہوا تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا " آج مجھ پر ایک ایسی سورت نازل ہوئی ہے جو مجھے دنیا کی تمام چیزوں سے زیادہ پیاری ہے پھر رسول اکرم نے سورۃ فتح کی ابتدائی آیات سنائیں۔اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتحاً مبيناً یعنی ہم نے تجھے کھلی کھلی فتح عطا کی ہے۔(11) اس میں یہ اشارہ تھا کہ حدیبیہ کی یہ صلح آئندہ عظیم الشان فتوحات کی پیش خیمہ بنے والی ہے اور اپنی ذات میں فتح مبین ہے۔فتح حدیبیہ کے معا بعد اس کی برکت سے خیبر فتح ہوا۔فتح خیبر میں خدمات فتح خیبر کے موقع پر جن جرنیلوں کو باری باری سپہ سالاری کی خدمت سونپی گئی۔اُن میں حضرت ابوبکر اور حضرت عمرؓ بھی تھے۔اگر چہ خیبر کی آخری فتح حضرت علی کی سالاری میں مقدر تھی مگر اس میں حضرت عمر کی ایک خاص خدمت کا بھی دخل ہے۔ہوا یوں کہ فتح خیبر سے ایک رات قبل حضرت عمرؓ حفاظتی گشت پر مامور تھے۔اس دوران وہ کچھ یہودی جاسوس گرفتار کرنے میں کامیاب ہو گئے۔جو قلعہ سے مسلمانوں کے احوال معلوم کرنے نکلے تھے۔حضرت عمرؓ نے اُن کو گرفتار کر کے قلعہ کے کمزور مقامات کے متعلق اور دیگر معلومات حاصل کر لیں۔یہ سب باتیں اگلے روز فتح خیبر میں بہت ہی ممد اور معاون ثابت ہوئیں۔یوں حضرت عمر نے فتح خیبر میں ایک اہم کردار ادا