سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 47
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 47 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ عمرؓ اور ایک اور صحابی عبداللہ بن زید کو سکھائے گئے۔آنحضرت ﷺ نے وہ کلمات سن کر حضرت بلال سے فرمایا کہ یہ کلمات بآواز بلند پڑھ کر تم لوگوں کو نماز کے لئے بلاؤ۔حضرت عمر نے جب اپنی رو یا حضور ﷺ کو سنائی تو آپ نے فرمایا ” اس کے موافق وحی بھی آچکی ہے۔“(8) دوسری تفصیلی روایت میں ذکر ہے کہ اذان نبی کریم ﷺ کو معراج کی رات بذریعہ وحی سکھائی گئی۔(9) غزوات میں شرکت قریش مکہ نے مدینہ میں بھی آنحضرت ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو سکھ کا سانس نہ لینے دیا اور مدینہ پر چڑھائی کر دی۔غزوات کا سلسلہ شروع ہوا تو حضرت عمر ہمیشہ آنحضرت ﷺ کے دست وبازو بن کر رہے۔غزوہ احد میں جب خالد بن ولید کے دستے نے اچانک دوبارہ حملہ کر کے مسلمانوں کو تتر بتر کر دیا۔نبی کریم ﷺ صحابہ کی ایک مختصر جماعت کے ہمراہ پہاڑ کے دامن میں تشریف لائے۔خالد نے ادھر کا رخ کرنا چاہا۔رسول اللہ علیہ نے دعا کی۔” خدایا! یہ لوگ یہاں نہ پہنچ پائیں۔حضرت عمرؓ چند مہاجرین اور انصار کو لے کر آگے بڑھے اور حملہ کر کے خالد کے دستے کو پسپا کر دیا۔اس موقع پر حضرت عمر کی غیرت ایمانی خوب ظاہر ہوئی۔جب ابوسفیان طعنہ دے کر یہ کہہ رہا تھا کہ ہم نے محد کوقتل کر دیا۔ہم نے ابوبکر کو تل کر دیا۔ہم نے عمر کوقتل کر دیا۔اگر یہ زندہ ہوتے تو جواب دیتے۔حضرت عمرؓ سے ضبط نہ ہو سکا اور جوش سے کہا ” اے دشمن خدا! تم جھوٹ کہتے ہو، یہ سب تمہیں ذلیل کرنے کے لئے اللہ کے فضل سے زندہ موجود ہیں۔‘ (10) صلح حدیبیہ میں ۶ ہجری کے سفر حدیبیہ میں بھی حضرت عمر شریک تھے۔اس موقع پر آپ کو ایک ابتلاء بھی پیش آیا۔معاہدہ صلح کی بظاہر مسلمانوں کے مخالف شرائط دیکھ کر حضرت عمر آنحضرت ﷺ سے کہنے لگے یا رسول اللہ ! کیا ہم حق پر نہیں ہیں ؟ حضور نے فرمایا ہاں حق پر ہیں۔عرض کیا پھر ہم باطل سے دب کر صلح کیوں کر رہے ہیں؟ پھر سوال کیا کہ کیا آپ نے ہمیں یہ نہیں فرمایا تھا کہ ہم امن سے طواف کریں گے؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ہاں لیکن کیا میں نے یہ کہا تھا کہ اسی سال طواف کریں گے؟